چین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک سرکاری دورے پر بیجنگ جائیں گے، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ صدر شی جن پنگ کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ اس اہم ملاقات میں ایران کی صورتحال، تجارتی کشیدگی، تائیوان کے مسئلے سمیت دیگر عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورے کے دوران چین پر ایران سے متعلق دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے، خصوصاً ایرانی تیل کی خرید و فروخت کے معاملے پر بات چیت متوقع ہے، کیونکہ چین اس وقت ایران کے خام تیل کے بڑے خریدار ممالک میں شامل ہے جبکہ امریکہ تہران پر اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کو مزید سخت کرنا چاہتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق یہ دورہ انتہائی اہم سفارتی اور علامتی حیثیت رکھتا ہے، جس میں امریکا کے لیے نئے تجارتی معاہدوں اور معاشی فوائد کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے۔
یہ دورہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل ان کا دورہ مارچ یا اپریل میں طے تھا، تاہم ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دورے کے دوران صدر ٹرمپ بیجنگ کے تاریخی مقام ٹیمپل آف ہیون کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ ان کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت بھی دی جائے گی۔ یہ 2017 کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہوگا۔







