ملتان (سپیشل رپورٹر) نشتر ہسپتال کے سامنے واقع تنگ گلیوں اورگنجان آبادیوں میں ہسپتالوں، کلینکس اور دیگر طبی مراکز کی موجودگی نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، مریضوں کی سہولیات اور محکمہ صحت کے ریگولیٹری نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں عام گاڑی کا گزرنا بھی بعض اوقات مشکل ہوتا ہے، وہاں بڑے پیمانے پر مریضوں کا علاج، آپریشنز اور دیگر طبی سرگرمیاں جاری رہنا کسی بڑے حادثے کی صورت میں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اصل سوال صرف ان ہسپتالوں کا نہیں بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے نظامِ نگرانی کا ہے۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز کے لیے مختلف معیارات اور ایس او پیز مقرر کر رکھے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج تک نشتر ہسپتال کے اطراف اور ملحقہ تنگ گلیوں میں قائم کتنے ہسپتالوں، کلینکس اور طبی مراکز کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا؟ کتنے مراکز کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر نوٹس دیے گئے؟ کتنے کے لائسنس معطل یا منسوخ ہوئے اور کتنے غیرقانونی مراکز کے خلاف کارروائی کی گئی۔روزنامہ قوم نے جب پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذمہ داران سے اس حوالے سے مؤقف لینے کی کوشش کی تو کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ بعض مراکز ایس او پیز پر پورا اترتے ہیں اور ان کے پاس لائسنس موجود ہیںجبکہ بہت سے مراکز ایسے بھی ہیں جنہیں کمیشن کی جانب سے لائسنس جاری نہیں کیے گئے۔یہ جواب خود ایک انتہائی اہم سوال کو جنم دیتا ہےاگر کمیشن کے علم میں ہے کہ بہت سے طبی مراکز کے پاس اس کا جاری کردہ لائسنس موجود نہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی جب اس سوال پر مزید استفسار کیا گیا تو مؤقف سامنے آیا کہ کارروائی کے لیے کسی شہری کی جانب سے درخواست یا نشاندہی ضروری ہے۔یہاں معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اگر ایک ہسپتال یا طبی مرکز عوام کے سامنے کھلے عام کام کر رہا ہے، وہاں مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، آپریشنز اور دیگر طبی سرگرمیاں جاری ہیں اور بظاہر وہ متعلقہ طبی و حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتا، تو کیا اس مرکز کی نگرانی اور معائنہ صرف کسی شہری کی درخواست کا محتاج ہےاگر ایسا ہے تو پھر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے باقاعدہ انسپکشن اور ریگولیٹری نظام کا مقصد کیا رہ جاتا ہےاور اگر کسی مرکز کے پاس لائسنس نہیں تو کمیشن کو یہ معلوم کرنے کے لیے درخواست کا انتظار کیوں کرنا پڑے کہ وہ مرکز کہاں واقع ہے اور وہاں کیا سرگرمیاں ہو رہی ہیں’’نشاندہی کون کرے گا یہ سوال کمیشن سے زیادہ عوام کا ہےکمیشن کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ نشاندہی کون کرے گا۔ اس پر شہریوں کا سوال ہے کہ نشاندہی کے لیے عوام کہاں تک جائیں گےکیا ہر شہری کو پہلے کسی ہسپتال کے ایس او پیز کا ماہر بننا ہوگاکیا ہر مریض یا اس کے لواحقین یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سا آپریشن تھیٹر معیار پر پورا اترتا ہےکیا عام شہری عمارت فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، طبی آلات، انفیکشن کنٹرول اور دیگر تکنیکی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کا ذمہ دار ہےیا پھر یہ ذمہ داری اس ادارے کی ہے جسے حکومت نے طبی مراکز کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیا ہےتنگ گلی، بڑے ہسپتال اور ایمرجنسی کا بڑا سوالنشتر ہسپتال کے سامنے اور ملحقہ آبادیوں میں بعض مقامات پر گلیاں انتہائی محدود چوڑائی کی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کسی ہسپتال میں آگ لگ جائے، مریض کی حالت بگڑ جائے، کوئی بڑا طبی حادثہ پیش آئے یا فوری انخلا کی ضرورت پڑے تو ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو گاڑیوں کی بروقت رسائی کیسے ممکن ہوگییہ سوال صرف کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ مریضوں اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے۔خاموشی کیوں کارروائی درخواست کی منتظر کیوںشہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کو اپنے ریکارڈ کے ذریعے معلوم ہے کہ بعض طبی مراکز لائسنس کے بغیر کام کر رہے ہیں یا مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے تو انہیں محض درخواست کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ قانون اور اپنے اختیارات کے مطابق ازخود معائنہ اور کارروائی کا نظام فعال کرنا چاہیے۔عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے نشتر کے اطراف موجود تمام طبی مراکز کا جامع سروے کب کیا؟ کتنے مراکز کی انسپکشن ہوئی؟ کتنے خلافِ ضابطہ پائے گئے؟ کتنے کو نوٹس جاری ہوئے کتنے سیل کیے گئے اور کتنے کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئیاگر ان سوالات کے اعدادوشمار موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لایا جائے۔اور اگر نہیں ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریگولیٹری ادارہ صرف شکایات موصول ہونے کا منتظر ہے یا خود بھی اپنے فرائض انجام دیتا ہےپنجاب حکومت نوٹس لےشہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، محکمہ صحت اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال کے سامنے اور ملحقہ تنگ گلیوں میں قائم تمام نجی ہسپتالوں، کلینکس اور طبی مراکز کا مشترکہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ سروے کرایا جائے۔تمام مراکز کے لائسنس، عمارت کی قانونی حیثیت، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر سیفٹی، آپریشن تھیٹرز، طبی آلات، انفیکشن کنٹرول، پارکنگ اور مریضوں کی گنجائش سمیت تمام متعلقہ ایس او پیز کی جانچ کی جائے۔کیونکہ سوال یہ نہیں کہ شہری شکایت کب کرے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ جس ادارے کو عوام کی صحت اور جانوں کے تحفظ کی نگرانی سونپی گئی ہے، وہ خود کب جاگے گا۔اگر غیرمعیاری طبی مراکز واقعی موجود ہیں تو کارروائی کے لیے درخواست کا انتظار کیوں۔







