مذہبی سکالر علامہ ناصر مدنی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی،ملتان ہسپتال داخل

ملتان (سپیشل رپورٹر) معروف مذہبی سکالر علامہ ناصر مدنی کی طبیعت اچانک ناساز ہونے کے بعد انہیں احتیاطاً ہسپتال منتقل کر دیا گیاجہاں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی ان کے مختلف طبی معائنے جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس وقت تک کسی بڑے قلبی عارضے کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مسلسل مانیٹرنگ میں رکھا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق چند روز قبل لاہور میں پیش آنے والے افسوسناک چھت گرنے کے سانحے کے بعد علامہ ناصر مدنی متاثرہ مقام پر گئے تھے، جہاں متاثرین سے ملاقات اور امدادی سرگرمیوں کے دوران ان کے پاؤں کے ناخن پر چوٹ آئی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے ایک پلاسٹک سرجن سے علاج کرایا، تاہم ناخن کے زخم میں معمولی انفیکشن ہونے پر انہیں اینٹی بائیوٹکس تجویز کی گئیں۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز علامہ ناصر مدنی جہانیاں میں موجود تھے، جہاں نماز جمعہ کےدوران خطاب کرتےہوئے انہیں اچانک طبیعت میں بگاڑ محسوس ہوااوروہ خطاب کرتےہوئےنیچے گرگئے۔عینی شاہدین کے مطابق علامہ ناصر مدنی نے طبیعت خراب ہونے سے قبل کلمۂ پڑھا اور تیسری مرتبہ کلمہ پڑھتے ہوئے منبر پر گر پڑے۔واقعے کے فوراً بعد انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ انہیں کمزوری، گھبراہٹ اور جسمانی بے چینی کی شکایت ہوئی جس کے بعد احتیاطاً فوری طور پرملتان میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی معائنے، ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی کی رپورٹس میں تاحال کسی واضح قلبی بیماری کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ مزید اطمینان کے لیے خون کے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ سی ٹی سکین بھی تجویز کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ پیچیدگی یا فالج کے خدشے کو مکمل طور پر خارج کیا جا سکے۔طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علامہ ناصر مدنی اس وقت مکمل طور پر ہوش میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، تاہم انہیں احتیاطی طور پر مسلسل مانیٹرنگ میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اینٹی بائیوٹکس، پانی کی کمی یا دیگر جسمانی عوامل بھی اس عارضی طبیعت خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔ حتمی رائے تمام رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی دی جائے گی۔ادھر علامہ ناصر مدنی کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں میں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں