الوداع خامنہ ای، سفر آخرت شروع

تہران،اسلام آباد( نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے سابق سپریم لیڈرسیدعلی خامنہ ای کی آخری رسومات کاآغازجمعہ کے روزسے ہوگیا۔ وزیراعظم شہبازشریف،فیلڈمارشل عاصم منیر، سعودیہ، افغانستان سمیت دنیابھرسےوفود نےگزشتہ روز تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔ شہید علی خامنہ ای کے آخری دیدار پر ایران میں سوگ کی فضاطاری ہے، رقت آمیز مناظردیکھنےمیں آئے، ایران نے امریکااوراسرائیل کوکھلی وارننگ دی ہےکہ جنازے پرحملہ ہوا تو نتائج سنگین ہونگے۔ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز ان کی رحلت کے 125 دن بعد ہو گیا ،علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت جمعہ کے روز تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دئیے گئے جہاںجسدِ خاکی کا دیدار کرایا جا رہا ہے، رقت آمیز مناظر دیکھے جا رہے ہیں، اس موقع پر دارالحکومت تہران سکیورٹی قلعہ بن گیا، سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظاما ت کئے گئے ہیں،حکام نے شہر کے اہم علاقوں میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے جبکہ مختلف پابندیاں بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔ سات روزہ پروگرام کا آغاز جمعہ کو تہران سے ہو گیا ۔جہاں دنیا بھر کے رہنما، اعلی سرکاری شخصیات، مذہبی رہنما اور علما تعزیت پیش کریں گے۔ آج 4 اور کل5 جولائی کو تہران میں عوامی جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی، نماز جنازہ گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ادا کی جائے گی۔شہید سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو نماز جنازہ کے بعد قم، نجف اور کربلا لیکر جایا جائے گا اور پھر میت واپس ایران لا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ آخری رسومات میں کم از کم دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے کئی اہلِ خانہ کے تابوت مصلیٰ الکبیر میں عوام کے آخری دیدار کے لئے رکھے گئے ہیں۔ جہاں رقت آمیز مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دارالحکومت تہران میں تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔تہران کے انقلاب چوک میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے منسوب علامتی مٹھی بھی نصب کر دی گئی ہے جو آخری رسومات کی تیاریوں کا حصہ ہے جبکہ ملک بھر میں سوگ کی فضا نمایاں ہے۔ادھرایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات یا نمازِ جنازہ کے دوران اسرائیل یا امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا انتہائی سخت جواب دے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ مخالفین کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مقدس شخصیات کی بے حرمتی برداشت نہیں کرے گا۔بیان میں کہا گیا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات انتہائی حساس موقع ہیں اور ایران کی مسلح افواج ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ادھروزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔دریں اثنافیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئے، ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو الوداع کہا۔ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ وليد بن عبدالريم الخريجی نے وفد کے ہمراہ شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلیٰ سطح کے وفد نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔حماس کے وفد میں اسماعیل درویش، موسیٰ محمد ابو مرزوق، ظاہر جبارین، باسم نیعم اور ڈاکٹر خالد قدومی سمیت دیگر شامل تھے۔ افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امری خان متقی نے شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے جمعہ کے روز ایران کے مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تابوت پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے نشر کیا۔افغانستان کے طالبان مخالف رہنما احمد مسعود نے بھی شہید ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق احمد مسعود بیرون ملک سے افغان طالبان مخالف اپوزیشن گروہ کی قیادت کرتے ہیں۔پاکستان،ہندوستان، چین، ترکیہ، عراق، بوسنیا، ہنگری، بنگلادیش اور دیگر ملکوں کے مذہبی اور ثقافتی شخصیات اور گروہوں نے وداعی ہال میں حاضری دیکر رہبر انقلاب اسلامی اور ان کے شہید اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کیا، فاتحہ خوانی کی اور قائد شہید آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی یاد کو تازہ کیا۔اس موقع پر انڈونیشیا اور افغانستان کے علما اور برگزیدہ شخصیات من جملہ احمد مسعود، لبنان کی امل پارٹی، شام، لبنان، عراق، مراکش، ترکیہ اور افغانستان کے فاطمیون گروہ سمیت استقامتی محاذ کے رکن گروہوں کے نمائندوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے تابوت کی زیارت کی۔سپین، ایکواڈور اور بولیویا کے فرہنگی گروہوں اور پارلیمانی وفود نے بھی شہید رہبر انقلاب اسلامی کو احترام کا اظہار کیا۔یادرہےکہ 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اپنے رہائشی کمپانڈ پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنے کئی اہلِ خانہ کے ساتھ شہید ہو گئے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 میں ایران کی قیادت سنبھالی، جب آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا، آیت اللہ خمینی نے ایک دہائی قبل اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور وہ ایران کے پہلے سپریم لیڈر بنے تھے۔جہاں آیت اللہ خمینی انقلاب کے نظریاتی معمار تھے، وہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے فوجی اور نیم فوجی اداروں کو مضبوط اور منظم کیا۔ان کی تدفین ابتدا میں مارچ میں ہونا تھی لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کے باعث اسے موخر کر دیا گیا تھا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں