خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی

تازہ ترین

مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں

مخدوم رشید (نمائندہ خصوصی) مخدوم رشید شہر اور اس کے گردونواح میں غیرقانونی ہاؤسنگ کالونیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں، کاشتکاروں اور سماجی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ مخدوم رشید، 17 کسی بدھلہ روڈ، 18 کسی دنیا پور روڈ، سدرن بائی پاس، بابر چوک اور دیگر ملحقہ علاقوں میں جگہ جگہ زرخیز زرعی اراضی تیزی سے رہائشی سکیموں کی نذر کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق بعض ہاؤسنگ منصوبوں میں متعلقہ اداروں سے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر ہی پلاٹوں کی بکنگ اور فروخت جاری ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر نئے دفاتر، تشہیری بورڈز اور بکنگ کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں بے ہنگم شہری آبادی اور غیرمنظم تعمیرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ہاؤسنگ منصوبوں کی تشہیر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس انداز سے کی جاتی ہے کہ عام آدمی حقیقت اور تصور میں فرق کرنا مشکل سمجھتا ہے۔ رنگین بروشرز، سوشل میڈیا اشتہارات، مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر، تھری ڈی اینی میشن، کمپیوٹرائزڈ ماسٹر پلان اور جدید ویڈیو پریزنٹیشنز کے ذریعے ایسے دلکش مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں وسیع شاہراہیں، جدید اسپتال، بین الاقوامی معیار کے تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز، خوبصورت پارکس، کشادہ گرین بیلٹس، کھیلوں کے میدان، کمیونٹی سینٹرز، جدید سیوریج سسٹم، فلٹریشن پلانٹس اور ہر قسم کی شہری سہولتیں نمایاں کی جاتی ہیں۔ ان پرکشش مناظر کو دیکھ کر عام شہری یہ یقین کر لیتا ہے کہ چند برسوں میں یہ منصوبہ ایک جدید اور مثالی شہر کی صورت اختیار کر لے گا۔ مقامی شہریوں کے مطابق بعض ڈیلرز اور مارکیٹنگ ٹیمیں خریداروں کو یہ تاثر بھی دیتی ہیں کہ اگر آج سرمایہ کاری نہ کی گئی تو کل یہی پلاٹ کئی گنا مہنگے ہو جائیں گے۔ محدود مدت کی رعایت، آسان اقساط، فوری قبضے، قسطوں پر پلاٹ اور غیرمعمولی منافع جیسے دعوے کرکے لوگوں کو جلد از جلد بکنگ کرانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ اسی لالچ میں بہت سے لوگ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی، زرعی زمینیں، زیورات اور دیگر قیمتی اثاثے فروخت کرکے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کر دیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رقوم وصول ہونے کے بعد کئی منصوبوں میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر صرف نمائشی سڑکیں، چند برقی کھمبے یا علامتی تعمیرات کرکے خریداروں کو مطمئن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کئی افراد برسوں گزرنے کے باوجود قبضے، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں کے منتظر رہتے ہیںجس سے ان کی جمع پونجی منجمد ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ علاقے کے کسانوں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مخدوم رشید اور اس کے نواح کی زمین جنوبی پنجاب کی انتہائی زرخیز زرعی اراضی میں شمار ہوتی ہے، جہاں گندم، کپاس، چاول، چارہ، سبزیاں اور دیگر فصلیں بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے رہائشی سکیموں کے بے تحاشا پھیلاؤ کے باعث قابلِ کاشت زمین مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ غذائی تحفظ، ماحولیات، زیرزمین پانی کی سطح اور مستقبل کی زرعی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر ان ضابطوں پر مکمل عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ضلع کونسل، ایم ڈی اے، محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر تمام ہاؤسنگ منصوبوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے لائیں، منظور شدہ اور غیرمنظور شدہ سکیموں کی واضح فہرست جاری کریں اور غیرقانونی منصوبوں کے خلاف بروقت اور بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام دھوکہ دہی سے محفوظ رہ سکیں۔ بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو ایک طرف علاقے کی زرخیز زرعی زمینیں تیزی سے رہائشی سکیموں کی نذر ہوتی جائیں گی اور دوسری طرف ہزاروں خاندان مالی، قانونی اور سماجی مشکلات کی دلدل میں پھنس جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں