خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی

تازہ ترین

شہری سے مبینہ بھتہ خوری، سی سی ڈی اہلکار، انسپکٹر، لیڈی انسپکٹر پر مقدمہ درج

لیہ (نمائندہ قوم )ذرائع کے مطابق سی سی ڈی کا نام استعمال کرکے رچایا گیا گھناؤنا کھیل سامنے آگیا ۔ چند ماہ قبل لیہ کے ایک شہری ہارون یوسف کو انسپکٹر عرفان باجوہ لیڈی انسپکٹر نادیہ بی بی نے سی سی ڈی لاہور کے اہلکار شفقت کو ساتھ ملا کر گرفتار کیا اور اسے حوالات میں ڈال کر اس پر ناجائز مقدمات بنا دیے ، انسپکٹر عرفان اور لیڈی سب انسپکٹر نے سنگین نتائج پار کرنے کی دھمکیاں اور ساری زندگی جیل میں ڈالنے کی باتیں کرکے ہارون یوسف سے لاکھوں روپے مختلف اوقات میں لے لیے اور شہری ہارون یوسف نے اپنی جان بچانے کے لیے انکی ہر بات مانی ۔ آخر ایک روز ہارون یوسف کو آزاد کردیا گیا ،متاثرہ شہری نےلیہ میں پولیس افسران کے اثر رسوخ اور تعلقات کے پیش نظر اس نے لیہ پولیس حکام کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔ خدشہ تھا کہ یہاں آواز بلند کرنے پر اسکے خلاف مزید جھوٹے مقدمے درج ہونگے ۔ تبھی شہری ہارون یوسف نے لاہور آکر ایف آئی اے اور سی سی ڈی کے دفاتر میں جاکر ثبوتوں کے ساتھ تحریری درخواستیں دیں ، ہارون یوسف کے پاس ناقابل تردید شواہد اور ثبوت تھے اس نے عرفان باجوہ نادیہ بی بی اور سی سی ڈی اہلکار شفقت کو نامزد کرکے درخواستیں دیں ، اور تمام ثبوت اور ٹرانزیکشن کے حوالے فراہم کیے ابتدائی چھان بین میں تینوں ملزمان کے روابط ثابت ہو گئے جسکے بعد سی سی ڈی نے اہلکار شفقت کو انکوائری کے لیے بلایا تو اس نے تسلیم کیا کہ عرفان باجوہ اور نادیہ بی بی نے اسے لالچ دے کر استعمال کیا ،لیہ سے انسپکٹر عرفان باجوہ اور لیڈی سب انسپکٹر نادیہ بی بی کو انکوائری کے لیے طلب کیا گیا جب یہ لوگ آئے تو انہیں وضاحت کا پورا موقع دیا گیا۔ شہری پر انکی طرف سے بنائے گئے مقدمات بھی جھوٹے نکلے ۔ آخر تیسری پیشی میں تمام الزامات درست ثابت ہونے پر سی سی ڈی نے عرفان باجوہ سب انسپکٹر نادیہ بی بی اور سی سی ڈی اہلکار شفقت کے خلاف مقدمہ درج کرکے انکی گرفتاری بھی ڈال دی ہے ۔ اس مقدمے میں کئی دفعات شامل کی گئیں ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ بے گناہ شہری کو اختیارات کے بل پر لوٹنے والے افسران اور اہلکار نہ صرف لمبی سزا کاٹیں گے بلکہ رہائی کے بعد انکے محکمہ پولیس میں واپسی کے بھی کوئی امکانات نہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں