خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-خاتون کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-مخدوم رشید: غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیاں زرخیز زرعی اراضی نگلنے لگیں، حکام خواب خرگوش میں-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-محکمہ ہیلتھ میں جعلی دستاویزات پر تقرری، بعد ازاں استعفیٰ کیلئے دباؤ کی تحقیقات کا آغاز-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپیہ کی کمی عوام کیساتھ مذاق:عامر ڈوگر-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی-والد کے قتل کا صدمہ، انصاف کی منتظر معصوم بچی ذہنی مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گئی

تازہ ترین

“صاحب” کی جامن کھانے کی خواہش نے غریب کی زندگی اجاڑ دی، عمر بھر کیلئے معذور

بہاولپور (تحصیل رپورٹر) لال سونہارا میں مبینہ طور پر ایک افسر کی خواہش پوری کرنا غریب ڈیلی ویجز ملازم کے لیے زندگی بھر کی سزا بن گیا۔ محکمہ جنگلات کے ڈیلی ویجز ملازم، 38 بی سی لال سونہارا کے رہائشی محمد ناصر کو مبینہ طور پر رینج افسر افتخار علی نے جامن توڑنے کے لیے ایک بلند درخت پر چڑھنے کا حکم دیا، تاہم چند لمحوں بعد محمد ناصر درخت سے نیچے آ گرا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہونے سے وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گیا۔حادثے کے بعد محکمہ جنگلات کے افسران نے زخمی ملازم کی خبرگیری تک نہ کی اور زندگی بھر کے لیے اپاہج ہونے والا غریب مزدور علاج اور دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر ہو گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد ناصر گھر کا واحد کفیل تھا اور اس حادثے نے پورے خاندان کو فاقوں اور پریشانیوں کے دہانے پر پہنچا دیا ہےواقعہ کے بعد رینج افسر افتخار علی منظر سے غائب ہو گئے جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) لال سونہارا بھی معاملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ جنگلات کے اندر یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اگر ملازم سے ذاتی نوعیت کا کام لیا جا رہا تھا تو اس کے لیے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور حادثے کے بعد ذمہ داران نے خاموشی کیوں اختیار کر لی سماجی اور عوامی حلقوں نے واقعہ کو غریب مزدور کے ساتھ سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معمولی ملازم کی زندگی برباد ہو گئی لیکن متعلقہ افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، سیکرٹری جنگلات اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، معذور ہونے والے ملازم کو فوری مالی امداد، بہترین طبی سہولتیں اور مستقل معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان مزید اذیت سے بچ سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں