ملتان (وقائع نگار )ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان میں مبینہ کرپشن، رشوت، جعلی دستاویزات کے ذریعے تقرری، ہراسانی اور ملازمت سے استعفیٰ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈی ایچ اے ملتان سے تمام متعلقہ ریکارڈ اور جامع رپورٹ طلب کر لی ہے، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر مس کنول خلیل نے اپنے وکیل رانا محمد اشرف ایڈووکیٹ کے ذریعے سی سی او ہیلتھ ملتان ،ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ، کوآرڈی نیٹرز ہیلتھ سروسز ، خزانچی محکمہ صحت ملتان کو قانونی نوٹس بھی جاری کیا ہے اور اس کی کاپی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن دیگر حکام کو بھی ارسال کی گئی، نوٹس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ افسران نے کنول خلیل جو میٹرک پاس ہے سے ایجنٹ کے ذریعے 7 لاکھ روپے رشوت لی اورمبینہ طور مڈوائف کی جعلی سند و دیگر دستاویزات تیار کرا کر ملازمت دلادی جس پر وہ پہلی تنخواہ بھی لے چکی ہیں ، مگر اب مذکورہ افسران کے مختلف ذرائع سے ان پر ملازمت چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ متعلقہ افسر ان کے خلاف شکایت کرنے پر انہیں انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔قانونی نوٹس میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ تقرریوں اور دیگر انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں کی گئیںجبکہ شکایت کنندہ کے مطابق ان کے خلاف غیر ضروری کارروائیاں اور ذہنی دباؤ پیدا کیا گیا،اس پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب نے سی ای او ڈی ایچ اے ملتان کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں تقرری کی فائل، متعلقہ ریکارڈ، دستیاب شواہد اور اب تک کی گئی کارروائی کی مکمل رپورٹ مقررہ مدت کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ موصول ہونے والی رپورٹ کی روشنی میں مزید انکوائری اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







