تہران / بشکیک: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں تعاون، سہولت یا معاونت فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت میں شریک ہونے والے تمام فریق بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران کے علاقے زیباکنار میں واقع پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب کے کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی مزید تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
اب تک امریکا نے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس مبینہ حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے سخت بیانات سفارتی تناؤ میں اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔







