جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ڈرگ کیس میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی مبینہ وائس ریکارڈنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد سے متعلق پولیس کی درخواست پر وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کی جیل میں وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت دیگر ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب لیبارٹری بھجوایا جانا ضروری ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزمہ کی آواز کے نمونے حاصل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق کی جا سکے۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمہ نے ریکارڈنگ اور میسجز سے انکار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ریکارڈنگ میں موجود آواز اس کی نہیں ہے۔
عدالت نے پولیس کی درخواست پر وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کر دی۔
دوسری جانب سیشن کورٹ میں انمول عرف پنکی کے مبینہ سہولتکاروں کی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ بھی 10 جون تک موخر کر دیا گیا ہے۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے واٹس ایپ چیٹس اور ویڈیو کالز کی فرانزک رپورٹ جمع کرائی جا چکی ہے۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، جبکہ ان کی آمدن ظاہر کردہ ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مزید برآں قتل کیس کی سماعت میں پولیس نے عبوری چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی جس پر عدالت نے 9 جون تک وقت دے دیا۔
رپورٹس کے مطابق ملزمہ کے لاہور میں مبینہ جعلی سیلری اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا بھی انکشاف ہوا ہے، جبکہ اکاؤنٹ سے متعلق دستاویزات کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔







