10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی سفری پابندیوں کی فہرست تیار، پاکستان سمیت کئی ممالک شامل

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نئی سفری پابندیوں کی فہرست پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مختلف ممالک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، 10 ممالک کو “اورنج لسٹ” میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں پاکستان، بیلاروس، ہیٹی، میانمار، روس اور ترکمانستان شامل ہیں۔ اس فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں پر امیگرنٹ اور سیاحتی ویزے محدود کیے جائیں گے، جبکہ کاروباری مسافروں کو کچھ شرائط کے تحت امریکہ میں داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، ڈونلڈ ٹرمپ 11 ممالک کے شہریوں پر مکمل سفری پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جن ممالک کو “ریڈ لسٹ” میں شامل کیا جا سکتا ہے ان میں افغانستان، بھوٹان، کیوبا، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، شام، سوڈان، سومالیہ، وینزویلا اور یمن شامل ہیں۔
مزید یہ کہ، ٹرمپ انتظامیہ “یلو لسٹ” میں چاڈ، ڈومینیکا، اور لائبیریا سمیت 22 ممالک کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں کو ویزا درخواستوں میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے دور میں مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندی عائد کی تھی، جسے “مسلم بین” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان پابندیوں کے تحت ایران، عراق، لیبیا، سوڈان، سومالیہ، اور سوڈان کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ تاہم، صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدہ سنبھالتے ہی ان پابندیوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں