10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

غیر استعمال شدہ فنڈز واپس جمع کرانے کی ہدایت، وفاقی وزارتوں کو 30 اپریل تک کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ مالی سال 2024-25 کے دوران بچ جانے والے فنڈز کو 30 اپریل 2025 تک قومی خزانے میں واپس جمع کروائیں۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاری کے عمل کے تحت کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر غیر استعمال شدہ بجٹ کی تفصیلات جمع کرائیں۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، تاکہ موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کو حتمی شکل دی جا سکے اور آئندہ بجٹ کے تخمینوں کی تیاری میں مدد ملے۔
حکام کے مطابق بچ جانے والے فنڈز میں سول حکومت کے روزمرہ اخراجات، سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لیے 1100 ارب روپے مختص کیے تھے، جن میں سے اب تک صرف 450 ارب روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ فنڈز ان شعبوں کو منتقل کیے جائیں گے جہاں ان کی فوری ضرورت ہے، تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں