10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، مخصوص نشستیں چھین لی گئیں: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے نے انصاف کی امیدوں کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور کنول شوزب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر 39 امیدواروں کے نوٹیفکیشن کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا، اس کے باوجود ان کی نشستیں چھین کر دوسروں کو دے دی گئیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ مخصوص نشستیں ہمیں دی جائیں گی، مگر مینڈیٹ ان لوگوں کو دے دیا گیا جو عوامی ووٹ کے اصل حقدار نہیں تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سپریم کورٹ کا فل بینچ اس معاملے کا جائزہ لیتا تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
انہوں نے آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 26ویں ترمیم سے متعلق معاملے پر سب سے پہلے فیصلہ ہونا چاہیے تھا، کیونکہ یہ حیران کن ہے کہ 13 ججوں کے فیصلے کو 7 جج کالعدم قرار دے دیں۔
انہوں نے بتایا کہ 15 فروری کو پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، اور 22 فروری کو الیکشن کمیشن نے بغیر جواز 78 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دیں، جبکہ وہ سیٹیں خالی بھی رکھی جا سکتی تھیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایم این ایز کے نوٹیفکیشن اب بھی برقرار ہیں، اور ان کے امیدوار بدستور سنی اتحاد کا حصہ ہیں، کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی کہ عدالتوں پر نظر رکھیں اور عدالتی نظام پر اعتماد بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج انصاف حاصل کرنا پاکستان میں سب سے مشکل ہو چکا ہے، اور پی ٹی آئی سے نفرت میں تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں