جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار

تازہ ترین

ایران کا امریکی مؤقف پر سخت ردعمل، ٹرمپ کی تجاویز مسترد کرنے کے بعد کشیدگی میں اضافہ

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر بی آر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا مؤقف دراصل ٹرمپ کی مبینہ لالچ کے سامنے ایران کو جھکانے کی کوشش کے مترادف ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں کہا ہے کہ تہران کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق کو واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے، اور ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی تازہ تجاویز میں امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مؤقف کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی سلامتی اور بحری راستوں کے معاملات میں ایران کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ آئی آر بی آر کے مطابق ایرانی جواب میں امریکا سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے معاملات اب بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں