ملتان (کرائم سیل) تھانہ مظفرآباد کے علاقے بستی خدا داد میں منشیات فروشی کے وسیع نیٹ ورک کا انکشاف،متعدد نوجوان اور کم عمر لڑکے نشے کی لت کا شکار، منشیات کے دھندے کے باعث اہل علاقہ شدید پریشان، عوامی و سماجی حلقوں نےنئے سی پی او ملتان اختر فاروق سے فوری نوٹس،خفیہ معلومات کے ذریعےمنشیات فروشوں کے خلاف سخت آپریشن کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق بستی خدا داد میں اوڈبرادری سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد آئس ،ہیروئن، چرس، افیون، شراب فروخت کر رہے ہیں، جس کے باعث نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگ گیاہے اوران کے خاندان برباد ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بعض پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کابھی انکشاف ہواہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں کارروائی کے بعد بعض عناصر نے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرتے ہوئے بستی خدا داد کا رخ کیا، جہاں وہ دوبارہ منشیات فروشی کررہے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے سی پی او ملتان اختر فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ بستی خدا داد میں منشیات فروشی کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر مؤثر کارروائی کی جائے، منشیات کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرکے بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے اور ملی بھگت و غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ منشیات فروشی کیخلاف زیروٹالرنس پالیسی کے حامل سی پی او اختر فاروق منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں گے۔ دوسری جانب منشیات فروشی سمیت سماجی برائیوں کیخلاف بلاامتیاز ایکشن کے مشن پر عمل پیرا ایس پی کینٹ ڈویژن ڈاکٹر خدیجہ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہوئے بستی خدا داد میں نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی کے خاتمے کے لیے صرف معمول کی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ خفیہ انٹیلی جنس نظام کو مؤثر بنانا، منشیات کی سپلائی کے ذرائع کا سراغ لگانا اوربعض پولیس اہلکاروں کی سرپرستی کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات بھی ضروری ہیں۔اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے ایس ایچ او تھانہ مظفرآباد سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کا فون اٹینڈ نہیں ہو سکا۔اس حوالے سے ترجمان پولیس نے اپنے موقف میں کہاکہ منشیات فروشی کیخلاف سی پی اونے سخت ایکشن کے احکامات جاری کئے ہیں۔منشیات فروشی کی لعنت کسی صورت برداشت نہیں ۔







