ملتان: بچے کو کچلنے والا ملزم بہاولپور میں مقابلے میں پار، یتیم خانے کی رجسٹریشن مسترد

ملتان ( خبرنگار،نمائندہ خصوصی) قسمت کے مارے یتیم مزدوربچےوسیم عباس قتل کیس میں نیا موڑ، مرکزی ملزم مبینہ سی سی ڈی سےمقابلے میں ہلاک، فرار ساتھی کی تلاش، یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد،انسانی حقوق کی تنظیموں کا المناک واقعہ کا نوٹس، المناک واقعہ کیخلاف ملک بھر میں احتجاج، ظالم ٹھیکیدارکے خوف سےستم زدہ بھاگتے یتیم بچے کی بے بسی اورقتل کئے جانے کی دردناک ویڈیوسوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھر کے ممالک میں پھیل گئی اورلوگوں نے شدید دکھ وافسوس کااظہارکیا۔ ذرائع کے مطابق ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے مقدمے میں مرکزی ملزم ٹھیکیدار توقیر نذیر بہاولپور میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم دورانِ حراست فرار ہوا تھا اور ناردرن بائی پاس بہاولپور کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں توقیر نذیر مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، مقتول وسیم عباس کا تعلق مظفرگڑھ کے علاقے دولت پور سے تھا، اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ کئی سال سے ملتان کےنجی یتیم خانے میں رہ رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کام کی جگہ پربہیمانہ تشدد، بدسلوکی کے بعد وسیم وہاں سے بھاگا تو گاڑی میں تعاقب کرکے اسے کچل دیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے کو شدید چوٹیں آنے کی تصدیق ہوئی۔ پولیس نے قتل کے مقدمے میں توقیر نذیر اور اس کے ساتھی امجد علی کو نامزد کیا تھا جبکہ امجد علی کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کی اطلاع ہے۔ تاحال اس کی گرفتاری یا موجودہ مقام کی مستند تصدیق سامنے نہیں آئی، گرفتاری کی صورت میں اسے تفتیش کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی ہوگی۔ دوسری جانب پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے ادارے کی نگرانی میں سنگین غفلت کا معاملہ اٹھایا اور پنجاب چیریٹیز کمیشن سے ادارے کے لائسنس و رجسٹریشن کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا۔ محکمہ لیبر کی رپورٹ پر یتیم خانے کی انتظامیہ کے رکن شعیب کے خلاف بھی بچے کو اجازت کے بغیر کام کے لیے ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے معاملے میں مقدمہ درج ہونے کی اطلاع ہے۔ انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کی تنظیم سرچ فار جسٹس نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے، شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا جبکہ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے بھی اپنے دائرۂ اختیار میں کیس کی پیروی کی اپیل کی گئی۔ پولیس نے یتیم خانے کی انتظامیہ کے دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ شروع کی ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ یتیم خانہ کتنے عرصے سے بغیر رجسٹریشن چل رہا تھا، وہاں مقیم بچوں کی حفاظت کا ذمہ دار کون تھا، کم عمر بچے کو کام پر بھیجنے کی اجازت کس نے دی ۔ وسیم عباس کے واقعے نے بچوں کی حفاظت، کم عمر مزدوری اور یتیم خانوں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں