شجاع آباد (خبر نگار،نمائندہ قوم)ملتان بوسن روڈ پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے شجاع آباد کے پانچوں نوجوانوں کو آہوں اور سسکیوں میں ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ نوجوانوں کی اچانک اموات پر ہر آنکھ اشکبار اور فضا سوگوار رہی۔ پانچ گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی اور خوشیوں والے گھروں میں کہرام مچ گیا۔تفصیلات کے مطابق ملتان کی بوسن روڈ پر تیز رفتار گاڑی ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے بعد دیوار سے جا لگی جس کے نتیجے میں شجاع آباد سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ جاں بحق نوجوانوں کی میتیں آبائی علاقوں میں پہنچنے پر اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہوگئے۔جاں بحق نوجوانوں میں یاسر، خاور، مزمل، وہاب اور کاشو شامل تھے۔ یاسر کو ہائی سکول والی جنازگاہ میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپردِ خاک کیا گیا، مزمل کی تدفین بستی خواجہ میں کی گئی جبکہ خاور کو بھی سپردِ خاک کر دیا گیا۔ وہاب اور کاشو جو آپس میں سگے بھائی تھے، انہیں جلالپور کھاکھی میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ دونوں بھائی سابق ایم پی اے عباس کھاکھی کے بھانجے تھے۔مقامی ذرائع کے مطابق پانچوں نوجوان دبئی میں محنت مزدوری کرتے تھے اور چار روز قبل ہی وطن واپس آئے تھے۔ اہلِ خانہ کو کیا معلوم تھا کہ بیرونِ ملک سے خوشیاں لے کر گھر لوٹنے والے نوجوان چند ہی روز بعد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائیں گے۔ اس المناک سانحے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے شجاع آباد کو سوگوار کر دیا۔پانچ نوجوانوں کی بیک وقت اموات پر علاقے میں رنج و غم کی فضا برقرار ہے، جبکہ نمازِ جنازہ میں شریک ہزاروں افراد نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وہاب بی کام کا طالب علم تھا جبکہ کاشف بھی زیرِ تعلیم تھا۔ یاسر تھہیم چار روز قبل دبئی سے پاکستان واپس آیاتھا اور اس نے اپنے دوستوں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ اسی سلسلے میں کاشف اور وہاب شام کے وقت موٹرسائیکل پر اپنے آبائی علاقے سے ملتان میں واقع اپنے گھر گل زیب کالونی پہنچے۔گھر پہنچ کر دونوں بھائیوں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ شجاع آباد سے ان کے کچھ دوست آرہے ہیں جن میں ایک دوست دبئی سے آیا ہوا ہے اور وہ ان کے ساتھ کھانا کھائیں گے۔ دونوں بھائی آرام کرنے کے بعد رات تقریباً 12 بجے اٹھے، اس دوران والدہ نے انہیں دودھ بھی دیا۔بعدازاں یاسر تھہیم اور دیگر دوست ان کے گھر پہنچے اور سب دوست مل کر ہوٹل میں عشائیے کے لیے گئے۔ کھانا کھانے کے بعد جب وہ واپس گھر کی جانب آرہے تھے تو لالازار میٹروسٹیشن کے قریب تیز رفتاری کے باعث ٹریفک حادثہ پیش آگیا۔حادثے میں شامل دوستوں میں یاسر تھہیم، کاشف، وہاب، مزمل اور نادر کے نام سامنے آئے ہیں۔ مزمل ان کے کلاس فیلو تھے جبکہ نادر کا تعلق بھی کھاکھی برادری سے بتایا گیا ہے۔یہ واقعہ ایک خاندان کے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔ کم عمری میں دو سگے بھائیوں سے محرومی کا دکھ ناقابلِ بیان ہے۔







