ملتان ( قوم ریسرچ سیل)رشوت دو، فائل اوکے کراؤ؟ میپکو میں نئے کنکشنز کے کرپشن سکینڈل کا انکشاف ،سنگل فیز یا تھری فیز؟ نئے کنکشنز میں مبینہ بے ضابطگیوں نے سوال اٹھا دیئے،نجی افراد کے ذریعے سرکاری کام؟ نئے کنکشنز میں رشوت وصولی، لائن سٹاف سے ایس ڈی او تک تحقیقات کا مطالبہ ،گزشتہ ایک ماہ کے نئے کنکشنز کا ریکارڈ تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ، شفاف سائٹ ویریفکیشن سے کرپشن بے نقاب ہوگی۔ ذرائع کے مطابق میپکو ریجن میں نئے بجلی کنکشنز کی منظوری اور تنصیب کے عمل میں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، غیر قانونی سہولت کاری اور رشوت وصولی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر میپکو اہلکار صارفین سے رقم وصول کرکے نئے کنکشنز کی فائلیں اور سائٹس اوکے کراتے ہیں جبکہ رقم نہ دینے یا مطلوبہ رقم سے کم ادائیگی کی صورت میں مختلف اعتراضات عائد کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔بتایاگیا ہے کہ ملتان سمیت میپکو ریجن کی بیشتر سب ڈویژنز میں نئے کنکشنز کے معاملے میں مبینہ طور پر لائن مین، لائن سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ایس ڈی او کے درمیان غیر قانونی سہولت کاری کا نظام قائم ہےجبکہ اہلکار مبینہ طور پر نجی افراد کو بھی موقع پر سروے، فائلوں کی تکمیل اور صارفین سے رابطوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ پرائیویٹ افراد مبینہ طور پر صارفین سے رقم وصول کرکے متعلقہ اہلکاروں تک پہنچاتے اور بعدازاں کنکشن کی فائل یا سائٹ کو کلیئر کراتے ہیں۔ذرائع کے مطابق پانچ، سات اور دس مرلہ یا اس سے زائد رقبے کی جائیدادوں کے نئے کنکشنز میں بھی مبینہ طور پر لوڈ اور مقررہ تکنیکی تقاضوں کو نظرانداز کرکے سنگل فیز کنکشنز کی منظوری یا تنصیب کی اطلاعات موجود ہیں۔ تاہم نیپرا کے موجودہ کنزیومرسروس مینوئل کے مطابق کنکشن اور لوڈ کے تعین کے لیے باقاعدہ معیار موجود ہیں اور ہاؤسنگ سکیموں میں انفرادی گھروں کے لیے رقبے کے مطابق لوڈ اسیسمنٹ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی سہولت کاری نہ ہو وہاں موقع کی ویڈیو یا دیگر اعتراضات کے ذریعے فائل روک دی جاتی ہے اور صارفین کو دوبارہ سروے یا اضافی “تقاضوں” کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس مبینہ طور پر مطلوبہ رقم کی ادائیگی کی صورت میں اسی نوعیت کی فائلوں کو کلیئر کرانے کی شکایات ہیں ۔ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ میپکو کی کسی بھی سب ڈویژن کے گزشتہ ایک ماہ کے نئے کنکشنز کا ریکارڈ تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹ کرایا جائے اور ریکارڈ میں موجود پلاٹ کے رقبے، منظور شدہ لوڈ، کنکشن کی قسم، سائٹ سروے، موقع کی تصاویر و ویڈیوز، فائل پر اعتراضات اور کنکشن کی تنصیب کے ریکارڈ کو موقع پر دوبارہ چیک کیا جائے تو مبینہ بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آسکتی ہے۔بیشتر لائن سپرنٹنڈنٹس نے مبینہ طور پر نجی افراد کو اپنے ساتھ منسلک کر رکھا ہے جو صارفین کے گھروں اور جائیدادوں پر جاکر معاملات طے کرتے اور متعلقہ اہلکاروں سے رابطے کے ذریعے فائلیں مکمل کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری امور میں غیر مجاز نجی افراد کے استعمال، اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال اور صارفین سے غیر قانونی وصولیوں سمیت متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔حکام بالا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میپکو کے تمام سرکلز اور سب ڈویژنز میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران منظور اور نصب کیے گئے نئے کنکشنز کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، خصوصاً ان کنکشنز کی سائٹ ویریفکیشن کی جائے جن میں سنگل فیز یا تھری فیز کنکشن کی نوعیت، منظور شدہ لوڈ، پلاٹ کے رقبے یا سائٹ رپورٹ کے حوالے سے تضاد موجود ہو۔ دوسری جانب میپکو حکام کا مؤقف ہے کہ نئے کنکشنز کے حوالے سے پالیسی اور قواعد واضح ہیں، منظور شدہ کنکشنز کی فائلوں کی جانچ پڑتال بھی کی جاتی ہے اور متعلقہ افسران کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ میپکو حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کے خلاف رشوت یا غیر قانونی سہولت کاری کا ٹھوس ثبوت سامنے آئے تو قواعد کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔







