ایمرسن: پی ڈی اضافی چارج، وائس چانسلر اور رجسٹرار نے سینڈیکیٹ کو ہائی جیک کر لیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں پراجیکٹ ڈائریکٹر/سول انجینئر کی اضافی چارج پر تعیناتی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور دستیاب سرکاری دستاویزات نے وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کی جانب سے سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیے گئے مؤقف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ معاملے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے رجسٹرار کی جانب سے ایمرسن یونیورسٹی کو بھیجے گئے خط میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ BZU کے ایک افسر کو ایمرسن یونیورسٹی میں Project Director (Civil) کے طور پر Additional Charge دینے کی کوئی گنجائش نہیں، تاہم قابل اطلاق ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت افسر کو دوسری تنظیم میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایمرسن یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیے گئے ایجنڈا/کارروائی میں یہ تاثر دیا گیا کہ بی زیڈیونے ڈاکٹر اظہر خطاب کے حق میںاین اوسی جاری کر دیا ہے اور اسی بنیاد پر انہیں ایمرسن یونیورسٹی کا پراجیکٹ ڈائریکٹر اضافی چارج پر لگایا جا سکتا ہے۔دستیاب دستاویزات کے مطابق BZU ملتان کے رجسٹرار نے ایمرسن یونیورسٹی کے رجسٹرار کو مراسلہ نمبر PF/18/Admin/ مورخہ اپریل 2026 ارسال کرتے ہوئے واضح کیا کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی اور ایمرسن یونیورسٹی کے متعلقہ قوانین کے تحت BZU کے کسی افسر کو ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں Project Director (Civil) کے طور پر Additional Charge پر تعینات کرنے کی کوئی provision موجود نہیں۔ خط میں تاہم یہ ضرور لکھا گیا کہ applicable deputation policy کے تحت کسی افسر کو دوسری تنظیم میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا جا سکتا ہے۔
BZU کے اصل خط کا اہم متن یوں ہے:
“As per the Act governing Bahauddin Zakariya University (BZU) and Emerson University Multan, there is no provision for assigning additional charge to an officer as Project Director (Civil) from BZU to Emerson University, Multan. However, under the applicable deputation policy, an officer may be deputed to another organization.”
خط میں مزید درج ہے کہ متعلقہ افسر نے ایمرسن یونیورسٹی میں بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر سول انجینئر خدمات سرانجام دینے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ BZU ملتان نے اس کی deputation پر no objection ظاہر کیا، مگر یہ بھی صاف طور پر لکھا گیا کہ یہ “standard terms and conditions of the policy” کے تحت ہوگا۔ یعنی دستاویز کے متن سے بظاہر ڈیپوٹیشن کی گنجائش سامنے آتی ہے، Additional Charge کی نہیں۔دوسری طرف ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی سنڈیکیٹ کے ایجنڈا آئٹم نمبر 11 میں معاملہ “Consideration of Appointment of Project Director / Civil Engineer on Additional Charge Assignment” کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ اس میں سیکرٹری نے سنڈیکیٹ کو بتایا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر/سول انجینئر کی اسامی خالی ہے، اس لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے عبوری انتظام ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور بعد ازاں بہاالدین زکریا یونیورسٹی سے موزوں سول انجینئر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا۔
سنڈیکیٹ کی کارروائی میں مزید درج ہے:
“In this regard, BZU has issued NOC in favor of Dr. Azhar Khitab, Assistant Professor, Department of Civil Engineering, BZU to work as Project Director, Emerson University, Multan on additional charge basis.”
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر BZU کے اصل مراسلے میں صاف لکھا ہوا تھا کہ Additional Charge دینے کی کوئی provision نہیں اور صرف deputation پالیسی کے تحت افسر کو دوسری تنظیم میں بھیجنے کی گنجائش ہے تو پھر ایمرسن یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے سامنے BZU کے موقف کو “NOC … on additional charge basis” کے طور پر کیوں پیش کیا گیا؟
مزید حیران کن امر یہ ہے کہ اسی سنڈیکیٹ ایجنڈے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خط کا حوالہ بھی موجود ہے، جس کے مطابق Project Director (BS-19) کی تقرری کی اتھارٹی سنڈیکیٹ ہے۔ اس کے بعد سنڈیکیٹ نے ڈاکٹر اظہر خطاب، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سول انجینئرنگ BZU، یا کسی موزوں سرکاری یونیورسٹی کے ایسے افسر/استاد کو جو مطلوبہ سول انجینئرنگ اہلیت رکھتا ہو، چھ ماہ یا ریگولر incumbent کی آمد تک، جو بھی پہلے ہو، Additional Charge دینے کی منظوری دے دی۔
سنڈیکیٹ کے فیصلے کا متعلقہ متن ہے:
“After discussion, the House approved to assign the additional charge of the post of Project Director, Emerson University, Multan to Dr. Azhar Khitab, Assistant Professor, Department of Civil Engineering, BZU or a suitable officer/teacher possessing the requisite qualifications in Civil Engineering, from any suitable public sector university, for a period of six (06) months or till the arrival of a regular incumbent, whichever is earlier.”
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سنڈیکیٹ کے اراکین کو BZU کا اصل خط مکمل متن کے ساتھ دکھایا گیا تھا یا صرف اس کا ایسا خلاصہ پیش کیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ BZU نے ڈاکٹر اظہر خطاب کو ایمرسن یونیورسٹی میں Additional Charge پر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ اگر اصل خط سنڈیکیٹ کے سامنے موجود تھا تو پھر “deputation” اور “additional charge” کے درمیان بنیادی قانونی و انتظامی فرق کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ کیسے کیا گیا؟
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سنڈیکیٹ کوئی معمولی انتظامی فورم نہیں بلکہ یونیورسٹی کا بااختیار قانونی ادارہ ہے، جس میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، اراکین صوبائی اسمبلی محمد سلمان، اسامہ فضل اور شازیہ حیات، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر زاہدہ اظہر، وائس چانسلرز، سابق وفاقی سیکرٹری اور دیگر اہم اراکین شامل ہیں۔ اگر سنڈیکیٹ کے سامنے کسی سرکاری ادارے کے خط کا ایسا مفہوم پیش کیا جائے جو اصل خط کے متن سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو یہ محض الفاظ کا فرق نہیں بلکہ فیصلے کی بنیاد سے متعلق ایک انتہائی اہم انتظامی سوال بن جاتا ہے۔
یہاں ڈاکٹر حسان خالق قریشی اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق سے براہ راست یہ سوال بنتا ہے کہ کیا انہوں نے BZU کا اصل خط پڑھا تھا؟ اگر پڑھا تھا تو انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ BZU نے Additional Charge کی اجازت نہیں دی بلکہ قابل اطلاق پالیسی کے تحت deputation کا راستہ بتایا ہے۔ اگر خط نہیں پڑھا گیا تو پھر سنڈیکیٹ کے سامنے BZU کے موقف کی درست نمائندگی کیے بغیر اتنے اہم عہدے پر Additional Charge کی منظوری کیسے حاصل کی گئی؟ اور اگر خط پڑھنے کے باوجود اسے سنڈیکیٹ کے سامنے مختلف مفہوم میں پیش کیا گیا تو پھر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
دوسری جانب یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ BZU کے خط میں کسی افسر کی ڈیپوٹیشن کے امکان کو رد نہیں کیا گیا بلکہ واضح طور پر applicable deputation policy کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر ایمرسن یونیورسٹی کو واقعی BZU کے سول انجینئر کی خدمات درکار تھیں تو باقاعدہ ڈیپوٹیشن کے قانونی طریقہ کار کو اختیار کرنے کی بجائے Additional Charge کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟ کیا دونوں یونیورسٹیوں نے متعلقہ قواعد، سروس رولز اور تقرری کی مجاز اتھارٹی کے تقاضوں کو الگ الگ جانچا تھا؟
سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ سنڈیکیٹ کے فیصلے میں BZU کے NOC کو “additional charge basis” قرار دینے کی بنیاد کیا تھی، جبکہ BZU کے اپنے خط میں ایسی کوئی اجازت دکھائی نہیں دیتی؟ اگر BZU کے پاس Additional Charge کے لیے کوئی الگ خط، منظوری یا بعد کا وضاحتی مراسلہ موجود ہے تو اسے بھی منظر عام پر لایا جانا چاہیے تاکہ اصل حقیقت واضح ہو سکے۔
دستاویزات سامنے آنے کے بعد معاملہ اب محض ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کا نہیں رہا بلکہ یہ سوال بن چکا ہے کہ کیا ایمرسن یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کو فیصلہ کرتے وقت مکمل اور درست حقائق فراہم کیے گئے تھے؟ اگر تمام دستاویزات سنڈیکیٹ کے سامنے رکھی گئی تھیں تو پھر BZU کے واضح مؤقف اور سنڈیکیٹ کے فیصلے کے درمیان پیدا ہونے والے تضاد کی وضاحت کون کرے گا، اور اگر اصل BZU خط سنڈیکیٹ سے پوشیدہ رکھا گیا یا اس کا مفہوم تبدیل کرکے پیش کیا گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں