ملتان (عامر ملک سے)بیوہ کے حق پر قبضہ، قانون کی خاموشی اور سہولت کاری کا کھیل ،بدنام زمانہ مجروں اور ڈانس پارٹیوں کے سہولت کار پپو بھارا اور پولیس کی ملی بھگت کام کر گئی ۔پپو بھارا کی مبینہ پشت پناہی میں شبیر اقبال کا دکانوں پر دوبارہ قبضہ، عدالتی کارروائی اور گرفتاری بھی قبضہ ختم نہ کرا سکی یتیم بچوں کا واحد ذریعۂ معاش چھین لیا گیا، دکانوں پر خاتون کارندہ بٹھا کر بیوہ کو قریب آنے سے بھی روک دیا گیا، پولیس کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔تفصیل کےمطابق پیراغائب روڈ پر ایک بے سہارا بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کے واحد ذریعۂ معاش پر قبضے کا معاملہ اب صرف ایک جائیداد کا تنازع نہیں رہا بلکہ پولیس کی کارکردگی، قبضہ مافیا کی طاقت اور مبینہ سہولت کاری کے پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔دستیاب معلومات، متاثرہ خاندان کی فریاد اور معاملے کی کی جانے والی چھان بین کے مطابق شبیر اقبال نے مذکورہ دکانوں پر دوبارہ قبضہ جما رکھا ہے، جبکہ پپو بھارا مبینہ طور پر اس قبضے کا سہولت کار بن کر سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دکانوں پر ایک خاتون کو بٹھایا گیا ہے جو بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کو وہاں داخل ہونے یا اپنے روزگار کی جگہ کے قریب آنے تک کی اجازت نہیں دیتی۔عدالت تک معاملہ پہنچا، گرفتاری ہوئی، جیل بھی ہوئی، پھر قبضہ واپس کیسے آگیا؟یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اب پولیس اور متعلقہ اداروں کو دینا ہوگا۔متاثرہ خاندان کے مطابق شبیر اقبال کے خلاف کارروائی ہوئی، مقدمہ درج ہوا، اسے گرفتار کیا گیا اور وہ کچھ عرصہ جیل میں بھی رہا۔ مگر ضمانت پر رہائی کے بعد مبینہ طور پر وہ دوبارہ دکانوں پر قابض ہوگیا۔اگر قانون نے ایک مرتبہ اس معاملے کو سنجیدہ سمجھتے ہوئے کارروائی کی تھی تو پھر ضمانت کے بعد مبینہ قبضہ دوبارہ کیسے قائم ہوگیا؟کیا پولیس کو سب کچھ معلوم نہیں؟یا پھر معلوم ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کی جا رہی ہے؟پپو بھارا کا کردار بھی اب سوال بن چکا ہےمتاثرہ خاندان اور معاملے کی چھان بین کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پپو بھارا اس پورے معاملے میں شبیر اقبال کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ اگر ایک بااثر شخص کسی مبینہ قبضے کو برقرار رکھنے میں سہولت فراہم کر رہا ہو تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کردار کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟کیا وردی کی موجودگی میں بھی قبضہ مافیا کو سہولت مل سکتی ہےتو پھر عام شہری اپنے گھر، دکان اور روزگار کی حفاظت کس سے مانگے؟یہ صرف دکانیں نہیں، یتیم بچوں کا چولہا ہےبیوہ خاتون کے لیے یہ دکانیں کسی عالیشان جائیداد کا نام نہیں بلکہ اس کے بچوں کی روٹی، تعلیم اور مستقبل کا واحد سہارا ہیں۔ایک طرف یتیم بچے اپنے روزگار سے محروم ہیں، دوسری طرف مبینہ قبضہ برقرار ہے، جبکہ دکانوں پر موجود خاتون انہیں قریب تک نہیں آنے دیتی۔یہ منظر صرف ایک خاندان کی بے بسی نہیں بلکہ معاشرے کے ضمیر اور قانون کی طاقت دونوں کے لیے ایک امتحان ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی جی پنجاب، آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری کرائیں، دکانوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے، عدالتی ریکارڈ اور سابقہ مقدمے کو سامنے رکھا جائے، قبضے اور سہولت کاری میں ملوث تمام کرداروں کا تعین کیا جائے۔







