ملتان میں صاف پانی منصوبہ ناکام، ٹینکیوں میں کچرا، کیڑے، شہری زہر پینے لگے

ملتان ( سپیشل رپورٹر ) ملتان میں واٹر فلٹریشن پلانٹس بدحالی کا شکار صاف پانی اتھارٹی صاف پانی کے بجائے موذی بیماریاں بانٹنے لگی۔ملتان شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ بدانتظامی کا شکار ہو گیا۔ متعدد واٹر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں جبکہ جو اکا دکا پلانٹس فعال ہیں، وہاں بھی صفائی اور دیکھ بھال کی صورتحال انتہائی ناقص ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں صاف پانی اتھارٹی ایجنسی کے ملازمین نے صاف پانی منصوبہ برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ذرائع کے مطابق بعض فعال پلانٹس کی پانی کی ٹینکیوں میں کچرا، مچھروں سمیت مختلف حشرات اور مردہ کیڑے پائے جانے سے شہریوں کے لیے آلودہ پانی پینے کے باعث بیماریوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گندا اور غیر محفوظ پانی پیٹ کی مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہےجس کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے قیام، بحالی اور دیکھ بھال کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جانے کے باوجود عملی صورتحال سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر چند فعال پلانٹس کی صفائی اور دیکھ بھال بھی یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو کروڑوں روپے کے بجٹ کا مقصد کیا ہے۔صاف پانی اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ بجٹ خرچ ہونے کے باوجود پلانٹس فعال کیوں نہیں ہو سکے اور جو پلانٹس چل رہے ہیں وہاں پانی کے معیار اور صفائی کی نگرانی کون کر رہا ہے شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر تمام پلانٹس کی صفائی پانی کے معیار کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور بند پلانٹس کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں