وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن-وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن-وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکومت کو مذاکرات کی دعوت، کہا بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا-وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکومت کو مذاکرات کی دعوت، کہا بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا-حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے نہیں ہونے دیتے، سہیل آفریدی-حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے نہیں ہونے دیتے، سہیل آفریدی-فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق-فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق-ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیو لنک پر پیش نہ کرنے پر اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو شوکاز نوٹس-ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیو لنک پر پیش نہ کرنے پر اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو شوکاز نوٹس

تازہ ترین

حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے نہیں ہونے دیتے، سہیل آفریدی

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات بہتر ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سیاسی ذمہ داری جنید اکبر کے پاس ہے جبکہ حکومتی امور کی ذمہ داری ان کے پاس ہے، تاہم وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کے مارچ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبے کی آمدن 64 ارب روپے سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچائی گئی ہے اور اسے مزید بڑھا کر 200 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق پشاور میں ترقیاتی منصوبوں اور پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ ایک ہزار بستروں پر مشتمل بے نظیر اسپتال بھی تعمیر کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ میں بھی ایک ہزار بستروں کا اسپتال قائم کیا جارہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے منصوبوں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی میرٹ پر کی گئی اور کسی قسم کی پسند ناپسند کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی اداروں کے منصوبوں میں پی ڈیز کی تقرری کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دباؤ کو مسترد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی اور عالمی بینک کے منصوبوں کی مجموعی مالیت 60 ارب روپے ہے۔ ان کے بقول اگر کسی نے 7 سے 10 ارب روپے حاصل کیے ہیں تو وہ اب اسے ہضم نہیں کرپا رہا۔ سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے عناصر کی جانب سے دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے ایسے عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا ہے اور یہ سال امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ بلاوجہ تنازعات پیدا کیے جارہے ہیں۔ پاک افغان سرحد بند ہونے کے باعث رواں سال 7 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ سالانہ تقریباً 10 ارب روپے آمدن کی توقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود سرحد کے ذریعے دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اچھے اور برے کی تفریق ختم کرکے عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ ان کے مطابق صوبائی ایکشن پلان تیار کرلیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ بھی شیئر کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ افغانستان کے ساتھ قومی جرگہ تشکیل دے کر مذاکرات کیے جائیں، کیونکہ ان کے بقول افغان فریق کے پاس پاکستان کے ساتھ بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ سے وہ مختلف اداروں سے رجوع کررہے ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جارہی، جس کے باعث مجبوراً 27 ستمبر کی کال دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے 18 افراد کی ہفتہ وار ملاقات کے حوالے سے عدالتی احکامات موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ ان کے مطابق مرکزی حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے نہیں ہونے دیتے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ میں ابھی 7 دن باقی ہیں اور اس دوران معاملات حل کیے جاسکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق انہیں جنگلی اور دہشتگرد جیسے القابات دیے گئے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے انہیں ٹی ٹی پی کی بی ٹیم قرار دینے والا بیان بھی پہلے سے طے شدہ تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اتنی تیاری اس لیے کی ہے کیونکہ عوام میں ان کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ 4 اکتوبر کو مارچ کے لیے نکلیں گے اور واپسی حقیقی آزادی کے حصول کے بعد ہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی مسلح جتھہ نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں اور مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ساتھ آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ سہیل آفریدی کے مطابق 27 ستمبر کی تاریخ کے حوالے سے محمود اچکزئی سے بھی بات ہوئی تھی، جبکہ مارچ میں تاخیر حکمت عملی کے تحت کی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں میں خوف و ہراس اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسی مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی، جبکہ ریڈ زون میں لائے گئے کنٹینرز بعد میں ہٹا دیے گئے۔ ان کے مطابق 4 اکتوبر کے مارچ کے لیے مکمل تیاری کرلی گئی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کے امور میں مسلسل مداخلت کی جارہی ہے۔ شکیل خان کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر سے مبینہ طور پر زبردستی ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری ملازمین بے لگام لوگوں کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اے سی کوہاٹ نے گریز کی پالیسی اختیار کی تو انہوں نے اس اقدام کو سراہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کے ساتھ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے 11 ارب روپے کے جہاز کی خریداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اسے اچھی گورننس قرار دیا جاسکتا ہے؟ ان کے مطابق انہیں ایسی گورننس نہیں آتی۔ انہوں نے ملک کے قرضے سے متعلق بھی ایک دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ 43 سے بڑھ کر 97 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہر صورت مارچ کرنا ہے اور اس حوالے سے تیاری مکمل ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی مس ایڈونچر ہوا تو 4 اکتوبر سے پہلے بھی سڑکوں پر نکلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ایک شخص کی پالیسی چل رہی ہے اور محسن نقوی اس کے نمائندے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے حکومت کوئی معنی نہیں رکھتی اور وہ عمران خان کے سپاہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ان کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ اسے چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہادر شاہ ظفر نہیں بلکہ ٹیپو سلطان بننا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج نافذ کیا گیا تو عوامی ردعمل بے مثال ہوگا اور وہ گورنر راج یا نااہلی، کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ رہے تو ان کے متبادل کا فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں