لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے رکاوٹوں اور غیر جمہوری طرزِ عمل کے باوجود جماعت اسلامی کے کارکنان نے لاہور کا جلسہ کامیاب بنا کر ثابت کیا ہے کہ وہ عوامی میدان میں موجود ہیں۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے چارسدہ، صوابی، ساہیوال، سرگودھا، لاڑکانہ، کرک اور کراچی میں بھی جلسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم شروع کی جارہی ہے، جبکہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد اگر لیوی ختم نہ کی گئی تو لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں پیٹرولیم لیوی کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران 1300 سی سی کی گاڑیاں استعمال کرکے سرکاری اخراجات میں کمی لائیں۔ انہوں نے وفاق سے سود کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی محکموں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا سلسلہ بند کیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی عوامی مسائل کو اس طرح اجاگر نہیں کرتیں جس طرح کرنا چاہیے۔
وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ خطاب میں مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک سمیت دیگر زیرحراست رہنماؤں اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کا تفصیلی تذکرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی کھل کر مذمت کی گئی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سامنے آنے والی باتوں کی مذمت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پُرامن احتجاج اس کا آئینی حق ہے۔ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججز کو تمام مراعات حاصل ہونے کے باوجود عوامی مسائل کے حوالے سے انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔







