539 ارب کا ہیلتھ بجٹ، شہری کی صحت کیلئے روزانہ صرف 11 روپے 50 پیسے

ملتان (وقائع نگار)539 ارب کا ہیلتھ بجٹ، شہری کی صحت کے لیے روزانہ صرف 11 روپے 50 پیسے، پنجاب میں صحت کا بڑا بجٹ مگر مریض کے علاج کے لیے رقم محدود؛ 285 ارب تنخواہوں و مراعات کی نذر، براہِ راست علاج و ادویات کے لیے صرف 60 ارب 55 کروڑ روپے پنجاب حکومت کے خطیر ہیلتھ بجٹ کے دعوئوں کے برعکس بجٹ کے اعداد و شمار نے صحت کے شعبے کی ایک ایسی تصویر سامنے رکھ دی ہے جس نے حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 539 ارب 15 کروڑ روپے کے مجموعی ہیلتھ بجٹ میں سے مریضوں کے براہِ راست علاج، ادویات، ٹیسٹ اور آپریشنل طبی سہولیات کے لیے تقریباً 60 ارب 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 285 ارب روپے صرف تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات کی مد میں رکھے گئے ہیں۔پنجاب کی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ آبادی کو سامنے رکھا جائے تو مجموعی ہیلتھ بجٹ کی فی شہری ریاضیاتی تقسیم تقریباً 4 ہزار 222 روپے سالانہ، 352 روپے ماہانہ اور صرف 11 روپے 50 پیسے روزانہ بنتی ہے۔ تاہم یہ رقم فی شہری براہِ راست علاج کا بجٹ نہیں، بلکہ محکمہ صحت کے مجموعی بجٹ کو آبادی پر تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والا تناسب ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کے مجموعی 539.15 ارب روپے میں سے تقریباً 410 ارب 55 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں مختص ہیں، جو مجموعی بجٹ کا تقریباً 76 فیصد بنتے ہیں۔ ان اخراجات میں ملازمین کی تنخواہیں، الاؤنسز، مراعات، دفاتر، یوٹیلیٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 285 ارب روپے کے قریب تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص ہیں، جبکہ دفتری، یوٹیلیٹی اور انتظامی اخراجات کی مد میں تقریباً 65 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دوسری جانب مریضوں کے براہِ راست علاج اور ادویات سمیت دیگر طبی سہولیات کے لیے مختص رقم اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 128 ارب 60 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے۔ آبادی کے تناسب سے یہ رقم فی شہری سالانہ تقریباً ایک ہزار روپے بنتی ہے۔ اسی رقم سے نئے ہسپتال، طبی مراکز، مشینری، لیبارٹریز، بیڈز اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جانے ہیں۔جنوبی پنجاب کے لیے صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 35 فیصد کوٹے کے فارمولے کو بنیاد بنایا جائے تو 128 ارب 60 کروڑ روپے میں سے تقریباً 45 ارب روپے جنوبی پنجاب کے حصے میں آسکتے ہیں۔ تاہم اصل سوال مختص رقم سے زیادہ اس کے بروقت اجرا اور حقیقی معنوں میں خرچ ہونے کا ہے۔جنوبی پنجاب کے تقریباً ساڑھے چار کروڑ شہریوں کے لیے صحت کا بحران محض بجٹ کے اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، مظفرگڑھ، لیہ اور راجن پور سمیت متعدد اضلاع میں جدید تشخیصی سہولیات، ماہر ڈاکٹرز اور جدید طبی آلات کی دستیابی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔متعدد علاقوں میں سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، وینٹی لیٹرز، انکیوبیٹرز اور دیگر ضروری طبی آلات کی دستیابی یا فعالیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بعض مریضوں کو مقامی سطح پر مطلوبہ سہولت نہ ملنے کے باعث ملتان یا لاہور کے بڑے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہےجس سے مریضوں اور ان کے لواحقین پر سفری اور علاج کے اضافی اخراجات کا بوجھ پڑتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں