پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مرکزی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے عمل سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے، اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو مارچ سے قبل کر لے۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ میں اب صرف 7 دن باقی رہ گئے ہیں، اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ابھی بات کرلی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد میں بھی مذاکرات ہی کرنے ہیں تو پھر اس وقت تک انتظار کیوں کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ گزشتہ روز بھی مذاکرات کے لیے تیار تھے اور آج بھی بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکمران ان کی اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ سے وہ مختلف اداروں سے رجوع کررہے ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جارہی، اسی وجہ سے مجبور ہوکر 27 ستمبر کی کال دی گئی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ مارچ میں ابھی 7 دن باقی ہیں، اس دوران حکومت کو بات چیت کرلینی چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کے ساتھ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک میں ایک شخص کی پالیسی چل رہی ہے اور محسن نقوی اس کے نمائندے ہیں۔







