بی زیڈ یو: ایم فیل انٹری ٹیسٹ میں کھلم کھلا نقل، ویڈیو نے نگرانی اور میرٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کا امتحانی نظام سوالات کی زد میں، ایم فل انٹری ٹیسٹ میں نقل کی ویڈیو سامنے آگئی۔ شعبہ نفسیات میں نقل کا معاملہ؛ تعلیمی حلقوں کا شفاف انکوائری، ذمہ داروں کے تعین اور انٹری ٹیسٹ دوبارہ لینے کا مطالبہ کردیاگیا تفصیل کےمطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اطلاقی نفسیات میں ایم فل داخلہ ٹیسٹ کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے نے یونیورسٹی کے امتحانی نظام، میرٹ اور داخلوں کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ امتحانی عمل کے دوران بعض امیدواروں کو مبینہ طور پر غیر مجاز سہولت فراہم کی گئی جس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔اطلاقی نفسیات کی سربراہ ڈاکٹر ارم بتول اعوان جبکہ ڈاکٹر ملک مرید حسین شعبے کے امتحانات کے انچارج ہیں۔یونیورسٹی کے مطابق شعبے میں ایم فل اپلائیڈ سائیکالوجی پروگرام بھی جاری ہے اور داخلہ میرٹ یونیورسٹی پالیسی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ویڈیو نے امتحانی نگرانی پر سوال اٹھا دیے۔ امتحانی عمل کے دوران موبائل فون کے مبینہ استعمال اور امیدواروں کو غیر مجاز مدد فراہم کیے جانے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ویڈیو کی صداقت اور اس میں موجود افراد و واقعات کی باقاعدہ تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ معاملہ محض ایک امتحانی بے ضابطگی نہیں رہے گا بلکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے میں میرٹ، امتحانی نگرانی اور داخلہ نظام کی شفافیت کا سنجیدہ معاملہ بن سکتا ہے۔تعلیمی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایم فل جیسی پوسٹ گریجویٹ ڈگری میں داخلہ ٹیسٹ کا مقصد امیدواروں کی اہلیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ہے۔ کسی امیدوار کو مبینہ طور پر غیر مجاز سہولت ملنے کی صورت میں دیگر امیدواروں کے میرٹ اور پورے داخلہ عمل کی شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔بی زیڈ یو کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ایم فل اپلائیڈ سائیکالوجی کے لیے اہلیت یونیورسٹی پالیسی کے تحت مقرر ہے اور میرٹ بھی یونیورسٹی پالیسی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔اسی تناظر میں تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، امتحانی عمل کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ کیا جائے، امیدواروں کے جوابات اور حاضری کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف یونیورسٹی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔نقل ثابت ہوئی تو پورا داخلہ عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں