واسا ملتان میں خان برادرز کا رشوت نیٹ ورک، ایک گرفتار، دوسرا فرار، محکمہ یونین کے آگے ڈھیر

ملتان (قوم انویسٹی گیشن سیل) واسا ملتان میں سیوریج شکایات کے نام پر مبینہ رشوت ستانی، سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کرنے والے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں دو بھائی شعیب خان اور کامران خان بے نقاب ہوئے ہیں،جن میں سے ایک کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کرلیا جبکہ دوسرا بھائی فرار ہے، یونین کی پشت پناہی ، دبائو کے باعث واسا حکام کی جانب سے معطلی سمیت کوئی کارروائی نہ ہوسکی، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واسا ملتان مین دو بھائی شعیب خان اور کامران خان بطور سیور مین بھرتی ہوئے، بعد ازاں واسا کی ایک یونین کے اثر و رسوخ و دباؤ کے باعث نہ صرف واسا آفس بلکہ فیلڈ میں بھی اپنا سکہ جما لیا۔ معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب اینٹی کرپشن ملتان نے دیوان دا باغ نواب پور روڈ کے رہائشی محمد خلیل کی شکایت پر گزشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں ٹریپ ریڈ کی کارروائی کی، جس کے دوران واسا سپروائزر شعیب خان کو رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیااور اس سے 20 ہزار روپے رشوت کی رقم برآمد کرلی، جس پر شعیب خان اور اس کے بھائی کامران خان کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ 22/26 درج کیا گیا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رشوت ستانی کے اس نیٹ ورک کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب واسا میں ایک شکایت نمبر 207895 اور بتاریخ 14 ستمبر 2026 پر سیوریج مسئلے کے حل کے لئے شہری محمد خلیل سے پہلے کامران خان نے رابطہ کیا اور مبینہ طور پر موقع پر پہنچ کر 20 ہزار روپے وصول کیے، بعد ازاں اس نے اپنے بھائی شعیب خان کو بھی بھیج دیا، ایف آئی ار کے مطابق شعیب خان نے بھی شہری سے رقم کا مطالبہ کیا اور سیوریج مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ، شعیب خان نے جاز کیش کے ذریعے 25 ہزار روپے بھی وصول کرلئے جبکہ مزید رقم کا تقاضا بھی کیا گیا جس کے بعد معاملہ اینٹی کرپشن تک پہنچا اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں کارروائی عمل میں لائی گئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کے حوالے سے صرف ایک شکایت ہی نہیں بلکہ واسا کے فیلڈ معاملات میں شہریوں سے مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے حوالے سے متعدد شکایات اور الزامات بھی زیر گردش ہیں ، دونوں بھائیوں پر الزام ہے کہ وہ سیوریج نظام سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے شہریوں سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کرتے ہیں جبکہ بعض نجی کالونیوں میں سرکاری گاڑیوں کا استعمال کرکے شہریوں کو دباؤ میں لایا جاتا ہے اور سیوریج سے متعلق معاملات حل کرنے کے عوض مبینہ طور پر رقوم طلب کی جاتی ہیں ، واسا ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض علاقوں میں سیوریج مین ہولز کے ڈھکن مبینہ طور پر اپنے افراد کے ذریعے حاصل کرکے دس سے پندرہ ہزار روپے میں فروخت کردیے جاتے ہیں جبکہ بعض مقامات پر واسا کی سیوریج لائنوں کے مین ہولز میں مبینہ طور پر ریت کی بوریاں ڈال کر لائنیں بند کر دی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں گلیاں اور علاقے سیوریج کے پانی سے زیر آب آ جاتے ہیں بعد ازاں شکایت درج ہونے پر شہریوں سے بھاری رقم طلب کی جاتی۔اس تمام تر صورت حال کے باعث واسا میں مذکورہ ملازمین کی یونین کے مضبوط نیٹ ورک اور اثر و رسوخ کے باعث اینٹی کرپشن کی کارروائی اور مقدمے کے اندراج کے باوجود محکمانہ سطح پر فوری معطلی یا دیگر تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جوکہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایک واسا ملازم کو اینٹی کرپشن نے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا، اس سے رقم برآمد ہوئی اور دونوں بھائیوں مے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تو واسا حکام نے اس معاملے پر اپنے سروس رولز کے تحت کیا کارروائی کی؟ کیا شعیب خان اور اس کے بھائی کو معطل کیا گیا؟ کیا محکمانہ انکوائری شروع کی گئی؟ یا کامران خان کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں؟ اب واسا انتظامیہ اور اینٹی کرپشن حکام کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے ملازم کے خلاف کارروائی کو صرف دو افراد تک محدود رکھا جاتا ہے کا مبینہ طور پر پورے نیٹ ورک، سہولت کاروں، سرکاری گاڑیوں کے استعمال، مین ہول ڈھکنوں، سیوریج لائنوں کی بندش اور شہریوں سے مبینہ وصولیوں سمیت تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کی جاتی ہیں۔ واسا کی جانب سے دونوں بھائیوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ڈائریکٹر ایڈمن واسا سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں