وی سی ایمرسن کیخلاف خاتون پروفیسر کی ہراسمنٹ درخواست، صوبائی محتسب انکوائری شروع

ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف ہراسمنٹ کی شکایت، صوبائی محتسب پنجاب متحرک، کارروائی شروع ہو گئی ۔ تفصیل کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی کے خلاف ہراسمنٹ کی شکایت پر صوبائی محتسب پنجاب نے باقاعدہ کارروائی شروع کردی ۔یونیورسٹی کی شعبہ سائیکالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قرۃ العین نے The Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 کے تحت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی سمیت ڈاکٹر محمد فاروق اور مراد بیگ کے خلاف شکایت دائر کی ۔صوبائی محتسب پنجاب کے ریجنل آفس ملتان کی جانب سے شکایت کنندہ ڈاکٹر قرۃ العین کو کیس کی کارروائی کے سلسلے میں 22 ستمبر 2026 بروز منگل صبح 10 بجے ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صوبائی محتسب کے دفتر کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد شکایت باقاعدہ قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ آئندہ سماعت میں شکایت کنندہ کا مؤقف، شکایت میں عائد الزامات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے گاجبکہ متعلقہ فریقین کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع حاصل ہوگا ۔قانونی طور پر صوبائی محتسب کا فورم خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسمنٹ سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ذرائع کاکہنا ہے کہ شعبہ سائیکالوجی کے جس کمرے میں خاتون اسسٹنٹ پروفیسر قائم کردہ کونسلنگ سنٹر چلا رہی تھیںاسے زبردستی خالی کرانے کے لیے نو تعینات شدہ جونیئر فنانشل ایڈ آفیسر مرزا مراد بیگ کو بھیجا گیا تھا ۔انہوں نے مبینہ طور پر دفتر میں جا کر خاتون استاد اور وہاں موجود عملے کو ہراساں کیا اور سامان باہر پھینکنے کی دھمکیاں دیں ۔اس ہراسانی سے خوفزدہ ہو کر دفتر کی خاتون کلرک یاسمین اور اٹینڈنٹ نے وائس چانسلر کو تحریری شکایت دی کہ وہ اس ماحول اور شخص کے ساتھ کام نہیں کر سکتیں مگر داد رسی کے بجائے وائس چانسلر نے مبینہ طور پر ان کی برطرفی کے احکامات جاری کر دیئے۔ معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب خاتون پروفیسر وائس چانسلر کے دفتر پہنچیں وہاں نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا، گالم گلوچ ہوئی اور خاتون پروفیسر کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی جسے وہاں موجود افراد نے بمشکل روکا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کا اصل مقصد یونیورسٹی میں سینئر اساتذہ کی تذلیل کرنا اور جونیئر ملازمین کے ذریعے انہیں ہراساں کروانا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طرف خاتون اسسٹنٹ پروفیسر جنہوں نے اپنے ذاتی اخراجات سے دفتر میں اے سی اور دیگر سامان لگوایا تھا اس بدسلوکی پر اسسٹنٹ پروفیسر نے صوبائی محتسب کو درخواست دی ہے جس پر کارروائی کی گئی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں