بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ملتان ریلوے ڈویژن کی مختلف مقامات پر واقع سینکڑوں کنال قیمتی اراضی تاحال مبینہ طور پر ناجائز قابضین کے قبضے میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ ملتان ریلوے ڈویژن میں متعدد افسران کے تبادلے، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی اور وزیر ریلوے کی جانب سے کارروائی کی ہدایات کے باوجود بیشتر رقبہ تاحال ریلوے کے قبضے میں واپس نہیں لایا جا سکا۔ دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کے مطابق مختلف مواضعات میں ریلوے اراضی کی حد بندی، پیمائش اور قبضہ واگزاری کا معاملہ بدستور حل طلب ہے، جس سے قومی ادارے کو قیمتی اراضی کے حوالے سے مسلسل نقصان کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔دستاویزی ریکارڈ کے مطابق موضع ھوت والا میں تقریباً 832 کنال ریلوے اراضی، چک نمبر 12-بی سی میں 385 کنال 17 مرلے، چک نمبر 8-بی سی میں 551 کنال 12 مرلے جبکہ موضع غنی پور میں تقریباً 117 کنال ایک مرلہ رقبہ ایسے معاملات میں شامل ہے جن کی بابت ناجائز قبضوں اور ریلوے اراضی کی واگزاری کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر ریلوے کی زمین کے چند ایکڑ رقبہ کو مبینہ طور پر مختلف افراد کو کاشت یا دیگر استعمال کے لیے دیا گیا، تاہم وسیع رقبے کی مکمل حد بندی اور قبضہ واگزاری تاحال ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہےذرائع کے مطابق موضع غنی پور کے تقریباً 117 کنال ایک مرلہ رقبہ پر قائم رائس مل اور دیگر ناجائز قابضین کا قبضہ ہے کے معاملے میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے بھی ایکشن لیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود معاملہ مکمل طور پر حل نہ ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رقبہ بعد ازاں صوبائی حکومت کو منتقل ہو چکا ہے، جس کے باعث اس اراضی پر موجود مبینہ قبضے کے خلاف کارروائی کے لیے صوبائی حکومت کی سطح پر بھی اقدامات درکار تھے، تاہم تاحال ناجائز قابضین سے مکمل واگزاری عمل میں نہ لائے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔دوسری جانب موضع ھوت والا کے 832 کنال رقبے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ریلوے ٹریک بند ہونے اور متعلقہ اراضی کے مؤثر استعمال میں نہ ہونے کے باعث اس کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر ناجائز قابضین کے استعمال میں ہے۔ ذرائع کے مطابق چند ایکڑ رقبہ کاشت کے لیے دیا گیا، مگر باقی رقبے کی موجودہ حیثیت، قبضہ اور حدود کے تعین کے حوالے سے مکمل اور شفاف کارروائی ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔ریکارڈ کے مطابق چک نمبر 12-بی سی کے 385 کنال 17 مرلے اور چک نمبر 8-بی سی کے 551 کنال 12 مرلے سمیت مختلف مقامات پر موجود ریلوے اراضی کے حوالے سے لیز رجسٹر، لیز ریکارڈ اور موقع پر موجود رقبے کے باہمی موازنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر ریکارڈ میں درج رقبے اور موقع پر موجود صورتحال کی درست حد بندی نہ ہونے کے باعث یہ تعین مشکل ہو رہا ہے کہ ریلوے کی اصل ملکیتی حدود کہاں تک ہیں اور کس مقام پر مبینہ قبضہ موجود ہے۔ریلوے انتظامیہ کی جانب سے لیز پراپرٹی اور لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے عمل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق صرف ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ موقع پر ریلوے اراضی کی ڈیجیٹل/مکمل پیمائش، حد بندی اور ریکارڈ سے تصدیق بھی ضروری ہے۔ اگر کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں درج رقبے کو موقع پر موجود حدود کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے تو مبینہ قبضوں کی درست نشاندہی اور واگزاری میں مشکلات برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق ملتان ریلوے ڈویژن میں وقتاً فوقتاً افسران کے تبادلے اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں، تاہم ریلوے اراضی پر مبینہ قبضوں کے معاملے میں کوئی جامع اور نتیجہ خیز مہم تاحال مکمل نہ ہو سکی۔ وزیر ریلوے کی جانب سے ریلوے اراضی کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے پر زور دیے جانے کے باوجود مختلف مقامات پر زمین کی اصل حدود، موجودہ قابضین، لیز ہولڈرز اور ریلوے ریکارڈ کے درمیان مکمل مطابقت پیدا نہیں کی جا سکی۔شہری و سماجی حلقوں نے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔







