ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں جعلی دودھ کا دھندہ عروج پر، فوڈ اتھارٹی کی نمائشی کاروائیاں

ملتان ( قوم ریسرچ سیل)کام رائی برابر،تشہیر پہاڑ برابر۔۔۔فوڈاتھارٹی فلاپ ،مافیاکاراج ۔جعلی دودھ نیٹ ورک چین کیساتھ مبینہ ملی بھگت ، دکھاوے کوچھوٹی کارروائیاں۔کیمیکل زدہ جعلی دودھ کا زہر! کینسر، گردوں اور مہلک بیماریوں کے خطرات، ننھے بچوں کی صحت داؤ پرملتان سمیت جنوبی پنجاب میں جگہ جگہ ناقص و جعلی دودھ کی فروخت، فوڈ اتھارٹی کی محدود کارروائیاں اور ہینڈ آؤٹ سیاست بے نقاب،ذرائع کے مطابق ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں مبینہ کیمیکل زدہ، ناقص اور جعلی دودھ کی کھلے عام فروخت شہریوں، خصوصاً ننھے بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ دودھ کے نام پر تیار کیے جانے والے غیر معیاری اور ممکنہ طور پر مضرِ صحت محلول میں خطرناک کیمیکلز یا غیر غذائی اجزا شامل ہونے کی شکایات نے گردوں، جگر، معدے اور دیگر اعضا کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ بعض خطرناک کیمیکلز طویل عرصے تک استعمال کی صورت میں سرطان جیسے سنگین صحت کے خطرات سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں جعلی دودھ کا دھندا بے قابو ہونے سےفوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔کیمیکل، پاؤڈر، نباتاتی گھی اور دیگر اجزا سے دودھ نما محلول تیار کرنے کا انکشاف ہواہے۔ بچوں کی صحت سب سے زیادہ خطرے میں، جرمانوں کے بعد دوبارہ کاروبار شروع ہونے کی شکایات ہیں۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں دودھ کے نام پر مبینہ طور پر تیار کیا جانے والا جعلی اور ملاوٹی دودھ شہریوں،خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ مختلف کارروائیوں میں پاؤڈر، نباتاتی تیل یا گھی، مارجرین اور ممنوعہ کیمیکلز سے دودھ نما محلول تیار کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیںجبکہ بعض مقامات پر تیار شدہ جعلی دودھ ملک شاپس اور گھروں تک سپلائی کیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق خالص دودھ میں پانی، یوریا، نشاستہ، فارمل ڈی ہائیڈ، ڈٹرجنٹ، مصنوعی دودھ، غیر ڈیری چکنائی، شکر، نمکیات، امونیم سلفیٹ، ہائیڈروجن پرآکسائیڈ، سوڈیم بائی کاربونیٹ، بورک ایسڈ اور دیگر ممنوعہ اجزا کی ملاوٹ پائی جارہی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف فوڈ اتھارٹی کارروائیوں کے ہینڈ آؤٹ جاری کرکے اپنی کارکردگی ظاہر کرتی ہے، دوسری طرف گلی محلوں میں جعلی دودھ کی فروخت بدستور جاری ہے۔شہری حلقوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود کارروائیاں، دودھ تلف کرنا اور بعد ازاں ہینڈ آؤٹ جاری کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں جعلی اور کیمیکل زدہ دودھ کی فروخت کا فوری نوٹس لیا جائے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ کارکردگی کا غیر جانب دارانہ اور آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور مسلسل ناکامی کی صورت میں موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات یا متبادل مؤثر نگرانی کا نظام تشکیل دیا جائے۔اس حوالے سے ترجمان فوڈاتھارٹی سےفون پر موقف لینے کی کوشش کی گئی مگر وہ رابطے میں نہ آسکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں