ملتان (سٹاف رپورٹر) مختلف خواتین کو جلد کے علاج کی آڑ میں بلیک میل کرکے ہوس کا نشانہ بنا کر ان کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملتان کے معروف ماہر امراض جلد ڈاکٹر اظہر منیر کے بیٹے ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ گزشتہ 11 سال سے آئس، شراب اور جنسی ادویات و قوت بخش انجکشنز کا عادی ہے اور اس عرصہ کے دوران وہ پانچ مرتبہ لاہور اور ملتان کے مختلف منشیات بحالی سنٹرز سے100،100 دن کے لئے داخل رہ کر علاج بھی کروا چکا ہے مگر جونہی 100 دن پورے ہوتے ہیں وہ دوبارہ نشہ کرنے لگ جاتا ہے اور اسے مکمل طور پر تحفظ مبینہ طور پرڈاکٹراحسن اظہرکی والدہ اور ڈاکٹر اظہر منیر کی اہلیہ دیتی ہیں جو کہ از خود بھی چار بیٹیوں کی والدہ ہیں اور جنوبی پنجاب میں تعینات ایک ایڈیشنل سیشن جج کی سگی بہن ہیں۔ ان کے دو ہی بیٹے ہیں اور دونوں منشیات کے عادی ہیں۔ ڈاکٹر احسن اظہر منیر سے ویمن پولیس سنٹر نے موبائل برآمد کیا تو اس کا کوڈ کھلوانے کے بعد جب اسے چیک کیا گیا تو اس میں سینکڑوں خواتین کی ڈاکٹر احسن منیر کے ساتھ فحش ویڈیوز تھیں۔ ویمن سنٹر کی پولیس نے برآمد شدہ موبائل فون کو فرانزک لیب لاہور میں آڈٹ کے لیے بھجوا دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر احسن اظہر منیر دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کا والد ہے جبکہ اس کی بڑی بیٹی کی عمر 13 سال ہے اور وہ اپنے باپ کے مظالم کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار ہے جبکہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی اہلیہ فاطمہ نے ایم اے اسلامیات اور شادی کے بعد ایم فل اسلامیات کر رکھا ہے جبکہ ان دنوں وہ اسلامیات پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور تھیسز لکھ رہی ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ موبائل برآمد ہونے کے بعد جب اس میں سے فحش ویڈیو سامنے آئیں تو ویمن پولیس نے ملزم کا لیپ ٹاپ اور ہارڈ ویئر برآمد کرنے کے لیے عدالت سے ریمانڈ مانگا مگر عدالت نے متعدد ثبوت ہونے کے باوجود ریمانڈ دینے کے بجائے ملزم کو جوڈیشل کر دیا اور اس نے جیل روانہ ہوتے ہی راستے ہی سے اپنے برادر نسبتی کو فون کرکے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ جلد باہر آ جائے گا پھر ایک ایک کو دیکھ لے گا یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب ویمن پولیس سنٹر میں اس کی گرفتاری ڈالی گئی تو اس کا ماموں زاد بھائی جو کہ وکیل بھی ہے، فوری طور پر ویمن پولیس سٹیشن پہنچ گیا اور اس نے مبینہ طور پر زبانی درخواست کی کہ کسی بھی طریقے سے ملزم سے ملوا دیں کیونکہ اگر وہ نکوٹین نہیں لے گا تو اس کی طبیعت خراب ہو جائے گی اور آپ کے لیے حوالات میں کوئی نہ کوئی مسئلہ بن جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ منشیات اور بدکاری کے عادی اس ڈاکٹر احسن اظہر منیر کا بھائی جس کی عمر 31 سال ہے، وہ بھی کثرت شراب نوشی اور منشیات کے بے پناہ استعمال کی وجہ سے اپنے گردے خراب کر چکا ہے اور تقریبا سوا کروڑ روپے کے خرچ سے اس کا گردہ تبدیل کیا گیا مگر اس نے منشیات نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے اس کا تبدیل شدہ گردہ بھی کام کرنا چھوڑتا جا رہا ہے اور ڈاکٹروں نے چار مہینے کا وقت دیا ہے کہ کسی بھی طریقے سے نیا گردہ ارینج کریں تاکہ دوبارہ ٹرانسپلانٹ کیا جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سال 2025 میں ڈاکٹر احسن منیر نے حافظ جمال کے علاقے کی ایک بیوٹیشن اور فزیوتھراپسٹ سے شادی کی تھی مگر جب اس لڑکی کو پتہ چلا کہ یہ منشیات کا عادی ہے تو اس نے فوری طور پر عدالت کے ذریعے خلع لے لی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں بھائی جب منشیات کے علاج کے لیے ہسپتال میں تین تین ماہ کے لیے داخل ہوتے تو ان کا والد ڈاکٹر اظہر منیر اور والدہ رشتہ داروں میں یہ مشہور کر دیتے ہیں کہ وہ ڈرماٹالوجی کی تربیت کے لیے لندن گئے ہوئے ہیں ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ چھ سال لگاتار امتحان دینے کے باوجود بھی ڈاکٹر اظہر منیر کا چھوٹا بیٹا جس کے گردے فیل ہو چکے ہیں، بی اے بھی پاس نہیں کر سکا اور اپنے والد کے ساتھ بطور کمپوڈر کام کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی اہلیہ نے ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری عبد الرحیم اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کو بذریعہ خط تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور مذکورہ ایڈیشنل سیشن جج کا نام بھی بتا دیا ہے جو کہ اس کیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور جنہوں نے ملزم سے مزید برآمدگی کے لیے مزید ریمانڈ سے روکنے میں اپنے تعلقات کو بھرپور استعمال کیا کیونکہ وہ ملتان میں بھی تعینات رہ چکے ہیں۔







