پابندی کے باوجود داخلے، فیسیں وصول، نواز شریف یو ای ٹی ملتان میں ایچ ای سی رٹ چیلنج

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کی انتظامیہ کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کو نہ مانتے ہوئے طلباء و طالبات کے مستقبل کے ساتھ ہاتھ کرنے کی ایک اور مثال سامنے آ گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی کمزور فیصلہ سازی کی بنا پر اب انتظامیہ اپنی نا اہلی کا بدلہ طلباء و طالبات سے لے رہی ہے۔ حیران کن طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے پورے ملک کی یونیورسٹیوں میں ٹیسٹ منعقد کیا جس میں ملتان کی محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تمام طلباء و طالبات 20سے بھی کم نمبر حاصل کر سکے جس کی بنیاد پر تعلیمی اور تدریسی کوالٹی نہایت کم ہونے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے 18 جون کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کو خط لکھ کر یونیورسٹی میں داخلوں پر پابندی کی ہدایات جاری کیں مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کو کھڈے لائن لگاتے ہوئے اپنے طور پر اخباری اشتہارات جاری کر دیئے۔ جس میں لکھا گیا کہ داخلے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری سے مشروط ہوں گے اور داخلوں کی مد میں نہ صرف فیسیں وصول کر لیں بلکہ کلاسیں بھی شروع کروا دیں۔ اس دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ریویو ٹیم نے محمد نواز شریف یونیورسٹی انجینئرنگ ملتان کا وزٹ کیا اور مشاہدہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کوالٹی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ چنانچہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے 2 ستمبر 2026کو آٹھ روز قبل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کو اس بارے ہدایات جاری کیں کہ آپ کے کمپیوٹر کے تمام پروگرامز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چنانچہ آپ اس سال ایڈمیشن نہ کریں مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء و طالبات سے دھوکہ دہی کرتے ہوئے نہ صرف میرٹ لسٹیں جاری کر دیں بلکہ کلاسز بھی شروع کرا دی گئیں۔ کیا یونیورسٹی کو کسی قسم کی کوئی منظوری حاصل تھی؟ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کو ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کو پامال کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس قدر خود مختار اور با اختیار ہو چکی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کو ہی نہیں مان رہی؟ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے مستقبل کا کون ذمہ دار ہو گا؟ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم سے رابطہ کر کے متعدد طلبا و طالبات کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کا ٹینیور تو پورا ہو جائے گا مگر طلباء و طالبات کے مستقبل کا کیا ہو گا؟ اس بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ کسی قسم کا کوئی جواب نہ دے سکی۔ یہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی طلبا و طالبات اور ان کے والدین کے سامنے آ گئی ہےاور سونے پر سہاگہ کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنی کارکردگی چھپانے کے لیے غیر قانونی داخلے کرتے ہوئے عوام الناس کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سےنوازشریف یوای ٹی میں داخلوں کی ممانعت کالیٹر

شیئر کریں

:مزید خبریں