ملتان (قوم ریسرچ سیل )آئی پی پیز کواربوں ڈالر کے کیپسٹی چارجزادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کاعذاب ،حکومتی گورکھ دھندا ، شدید مہنگی بجلی ،عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز۔کسی اور ملک میں عوام کیساتھ ایساظلم نہیں ہوتا۔لاک ڈاؤن کے بجائے لیتھئم بیٹریاں سستی کرو، ٹیکس ختم کردو۔عوامی احتجاج کی گونج سنائی دینے لگی۔تفصیل کے مطابق ملتان، جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ پھر بے قابو، اربوں کے کیپیسٹی چارجز کے باوجود عوام اندھیرے میں!دن میں سولر کی بھرمار، رات کو بجلی غائب ہوتی ہے۔ذرائع کے مطابق ملک بھر کی طرح ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں اور علاقوں میں بجلی کی بندش نے شہریوں کو ایک مرتبہ پھر شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ گرمی، مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے ستائے عوام کے لیے لوڈشیڈنگ نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیاجبکہ دوسری جانب اربوں روپے کے کیپیسٹی چارجز، نجی بجلی گھروں کی ادائیگیوں، بڑھتے سولر سسٹمز اور توانائی کے متبادل ذرائع کے باوجود بجلی کی بندش نے حکومتی پالیسی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔توانائی کے شعبے میں موجود صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ محض ’’بجلی کم پیدا ہونے‘‘ تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔پاورڈویژن کے مطابق شام کے پیک اوقات میں طلب میں اضافہ، ہائیڈل پیداوار میں کمی، مہنگے تھرمل ایندھن اور ایل این جی کی قیمت و دستیابی سمیت متعدد عوامل بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ مہنگے ایندھن سے اضافی بجلی پیدا کرنے کے بجائے پیک اوقات میں محدود لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے صارفین کو مزید مہنگی بجلی سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صارفین سوال کررہے ہیں کہ اگر ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے تو صارف کو اس بجلی کا فائدہ کب اور کیسے ملے گا؟’’کیپیسٹی چارجز بھی دو، لوڈشیڈنگ بھی برداشت کرو‘‘عوامی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث سوال یہی ہے کہ جب صارفین سے بجلی کے بلوں میں مختلف مدات کے تحت بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں اور بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے اخراجات بھی ادا کیے جا رہے ہیں تو پھر گرمی میں شہریوں کو بار بار بجلی کی بندش کیوں برداشت کرنا پڑ رہی ہے؟سولر نے دن کا مسئلہ حل کیا، رات کا بحران پیدا کر دیا؟پاکستان میں سولر سسٹمز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دن کے اوقات میں ہزاروں گھروں اور کاروباری اداروں کی اپنی بجلی پیدا ہونے سے گرڈ پر دباؤ کم ہوتا ہے،حکومت اگر دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی سولر بجلی کو بیٹریوں میں محفوظ کرنے کی سہولت عام کر دے تو شام اور رات کے پیک اوقات میں قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔عوامی حلقوں میں ایک اور دلچسپ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ سے لیتھیم بیٹریوں اور سولر سٹوریج کی مارکیٹ کو غیر معمولی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جب بجلی بار بار بند ہوگی تو لوگ مجبوراً سولر کے ساتھ بیٹری سٹوریج خریدیں گے۔حکومت دانستہ طور پر لیتھیم بیٹریوں کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچانے کے لیے لوڈشیڈنگ کر رہی ہے۔یہ بھی کہاجارہاہے کہ لاک ڈاؤن کے بجائے بیٹری سستی کی جائے؟توانائی کے ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک قابلِ غور راستہ یہ بھی ہے کہ اگر آئندہ موسم میں بجلی کی طلب اور پیک آورز کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو محض بندش یا سخت انتظامی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے سولر بیٹری اسٹوریج کو عام کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔اگر نومبر کے بعد بیٹریوں، خصوصاً سولر اسٹوریج کے لیے استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریوں پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں خاطرخواہ کمی کی جائے تو لاک ڈائون کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ عام صارف کے لیے بیٹری خریدنا آسان ہو سکتا ہے۔ دن کی اضافی سولر بجلی ذخیرہ کر کے شام اور رات میں استعمال کی جائے تو قومی گرڈ پر پیک آورز کا دباؤ کم، مہنگے ایندھن کی ضرورت محدود اور لوڈ مینجمنٹ میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیاہے کہ پالیسی کا رخ ’’بجلی بند کر کے بیٹری خریدنے پر مجبور کرنے‘‘ کے بجائے ’’بیٹری سستی کر کے بجلی بند کرنے کی ضرورت کم کرنے‘‘ کی طرف کردیاجائے۔







