ملتان (سپیشل رپورٹر)ملتان میں غیر منظور شدہ اور مبینہ طور پر نامکمل قانونی تقاضے رکھنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگنے کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض ہاؤسنگ منصوبے مکمل طور پر فروخت کیے جانے کے بعد نئے فیز بھی مارکیٹ میں لے آئے ہیںمگر پہلے فیز کی حتمی منظوری ہی واضح نہیں جس کے باعث پلاٹ خریدنے والے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔سب سے بڑا سوال ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA) کی نگرانی اور اجازت کے نظام پر اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی ہاؤسنگ سکیم کو حتمی منظوری کا لیٹر حاصل نہیں تو وہاں باقاعدہ ڈویلپمنٹ، بڑے پیمانے پر تشہیر اور پلاٹوں کی فروخت کا سلسلہ کیسے جاری رہ سکتا ہےسمارٹ سٹی کا معاملہ بھی سوالیہ نشان بن گیا۔شہریوں کے مطابق سمارٹ سٹی ملتان کو مبینہ طور پر کئی سال قبل بڑی تعداد میں فروخت کیا جا چکا، وہاں ڈویلپمنٹ کا کام، کمرشل سرگرمیاں اور بجلی کا نظام بھی دکھائی دیتا ہےتاہم شہریوں کے مطابق سکیم کی حتمی منظوری کے حوالے سے اب بھی سوالات موجود ہیں۔یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر فائنل منظوری کے بغیر ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹوں کی خریدوفروخت اور ڈویلپمنٹ قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے تو متعلقہ ادارے نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔ڈویلپمنٹ دیکھ کر شہری دھوکا کھا جاتے ہیں۔ہاؤسنگ سکیموں میں سڑکیں، بجلی کے کھمبے، گلیاں، پارکس اور دیگر ڈویلپمنٹ دیکھ کر عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ منصوبہ مکمل طور پر منظور شدہ اور محفوظ ہے۔ یہی تاثر مبینہ طور پر پلاٹوں کی فروخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ چونکہ ڈویلپمنٹ مکمل ہو رہی ہے اور بجلی بھی موجود ہے، اس لیے منظوری بھی جلد ہو جائے گی۔ لیکن اگر برسوں گزرنے کے باوجود حتمی منظوری نہ ملے تو شہریوں کے لیے خریدی گئی فائلیں اور پلاٹ عملی طور پر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔فیز ون منظور نہیں تو فیز ٹو کیسے مارکیٹ میںآجاتاہے۔ملتان میں بعض ہاؤسنگ منصوبوں کے حوالے سے ایک اور اہم سوال سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق کچھ سکیمیں اپنا فیز ون فروخت کرنے کے بعد فیز ٹو کی مارکیٹنگ اور فروخت بھی شروع کر چکی ہیں جبکہ پہلے مرحلے کی قانونی حیثیت اور حتمی منظوری ہی واضح نہیں۔اگر یہ صورتحال درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری مکمل ہوئے بغیر دوسرے مرحلے کی تشہیر اور فروخت کی اجازت کس قانون یا ضابطے کے تحت دی جا رہی ہے۔ایم ڈی اے کی نگرانی یا مبینہ سہولت کاریہاؤسنگ سیکٹر کے متاثرین کا کہنا ہے کہ غیر منظور شدہ یا نامکمل منظوری رکھنے والی سکیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ متعلقہ اداروں کے بعض اہلکار مبینہ طور پر ہاؤسنگ مافیا کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور دستاویزی تصدیق ضروری ہےجبکہ ایم ڈی اے حکام کا مؤقف بھی اس معاملے میں انتہائی اہم ہے کہ کون سی سکیم مکمل طور پر منظور شدہ ہے، کون سی زیرِ منظوری ہے اور کن سکیموں کے خلاف کارروائی کی گئی۔گلبرگ ایگزیکٹو کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظرہیں۔ملتان میں ماضی کے ہاؤسنگ سکینڈلز بھی شہریوں کے لیے تلخ مثال بن چکے ہیں۔ گلبرگ ایگزیکٹو کے حوالے سے متاثرین طویل عرصے سے اپنی رقوم اور حقوق کے حصول کے لیے احتجاج اور قانونی کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ عدالتوں، نیب اور دیگر اداروں کے چکر لگاتے ہوئے انہیں بھاری قانونی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیںمگر اپنی جمع پونجی کی واپسی اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے نئے شہریوں کو کسی ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری اور مارکیٹنگ کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔ملتان میں ہاؤسنگ کا کاروبار اب صرف پلاٹوں کی خریدوفروخت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ شہریوں کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اگر کوئی سکیم قانونی طور پر مکمل منظور شدہ نہیں تو شہریوں کو اس کی حیثیت واضح طور پر بتانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایم ڈی اے فوری طور پر ملتان کی تمام نجی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری، این او سی، فائنل لیٹر، فیز وائز منظوری، ڈویلپمنٹ کی اجازت اور سیل ایبل پلاٹس کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لائے۔ورنہ سوال یہی رہے گا کہ فائلیں فروخت ہوتی رہیں، کروڑوں اور اربوں روپے مارکیٹ میں گردش کرتے رہےمگر جب شہری اپنا گھر بنانے پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ جس زمین پر خواب سجائے تھےاس کی قانونی حیثیت ہی غیر واضح ہے۔







