ڈیجیٹل میٹر ریورسنگ کیسز، 11 ملزم گرفتار، ایک سال بعد بھی مقدمات مبینہ ڈیل کی نذر؟

ملتان (قوم ریسرچ سیل)” پردے کے پیچھے کا کھیل “ڈیجیٹل میٹر ریورسنگ ، 11 ملزمان کی گرفتاری اور مقدمات کے بعد معاملات مبینہ ” ڈیل ” میں دب گئے؟ایک سال سے زائد گزر گیا، چالان کہاں ہے؟ عدالت میں کیس کہاں پہنچا؟ مزید ملزمان اور سہولت کار کون تھے؟موسیٰ پاک کے رانا ظفر، اختر بھٹہ کیس نے بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے، گرفتاری کے بعد تفتیش کہاں تک پہنچی؟میپکو کو مبینہ کروڑوں کا نقصان، اصل نیٹ ورک تک پہنچنے کے بجائے کارروائیاں صرف میٹر اور جرمانے تک محدود رہ گئیں۔نیٹ ورک کےپیچھے کس کاہاتھ؟ کون کون ملوث ہیں۔؟ذرائع کے مطابق ملتان سمیت میپکو ریجن میں ڈیجیٹل بجلی میٹرز کی ریڈنگ میں مبینہ ردوبدل اور بجلی چوری کے جدید طریقوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے باوجود متعدد اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ خصوصاً شاہ رکن عالم ڈویژن میں ڈیجیٹل میٹر ریورسنگ کے 11 ملزمان کے خلاف ایف آئی اے مقدمات درج ہونے کے بعد ان مقدمات کا قانونی انجام کیا ہوا؟ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود چالان کہاں پہنچا، تفتیش کس مرحلے میں ہے، کتنے ملزمان ضمانت پر ہیں اور عدالت میں کارروائی کہاں تک پہنچی؟ ان سوالات کا واضح جواب سامنے نہ آنے سے بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں کی مؤثریت پر سوالیہ نشان پیدا ہوگیا ہے۔ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 2024 میں شاہ رکن عالم ڈویژن میں کارروائی کے دوران 11 افراد کو ڈیجیٹل میٹر ریورس کرنے اور ٹرمینل میں لوپ سسٹم کے ذریعے بجلی چوری کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی اے تھانے میں مقدمات درج کروائے گئے تھے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد قانون نے اپنا سفر کہاں تک مکمل کیا؟ کیا تفتیش مکمل ہوئی؟ کیا چالان عدالت میں پیش ہوا؟ اگر پیش ہوا تو کس عدالت میں؟ کتنے ملزمان پر فرد جرم عائد ہوئی؟ کتنے ضمانت پر ہیں اور کیا کسی کو سزا ہوئی؟ ان سوالات کے مکمل جوابات سامنے نہیں آ رہے۔یہ معاملہ محض 11 صارفین یا چند میٹروں تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ میٹر ریورس کرنے کی تکنیکی صلاحیت رکھنے والا شخص صارف کے میٹر تک پہنچ کر ریڈنگ میں ردوبدل کرتا ہے تو اس کے پیچھے سہولت کاری، صارف اور تکنیکی نیٹ ورک کے ممکنہ روابط کی تفتیش بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ اگر 11 افراد پکڑے گئے تھے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے میٹر کس نے ریورس کیے، ٹیکنیکل طریقہ کس نے فراہم کیا، کیا مزید صارفین کی نشاندہی ہوئی، اور کیا کسی مبینہ سہولت کار یا تکنیکی ماہر تک تفتیش پہنچی؟موسیٰ پاک ڈویژن کا مئی 2025 کا کیس اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق رانا ظفر کو مبینہ ڈیجیٹل میٹر ریورسر کے طور پر گرفتار کیا گیا اور اس کی نشاندہی پر اختر بھٹہ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید افراد کی نشاندہی اور قانونی کارروائی کا ذکر موجود تھا۔یہاں بھی سوال وہی ہے،رانا ظفر سے اختر بھٹہ تک تفتیش پہنچی تو اختر بھٹہ کے بعد کہاں پہنچی؟ کیا مزید ریورسرز پکڑے گئے؟ کیا ان دونوں سے مبینہ طور پر میٹر ریورس کروانے والے صارفین کی فہرست حاصل ہوئی؟ کیا ان کے موبائل فون، رابطوں، مالی معاملات یا دیگر تکنیکی شواہد کی فرانزک جانچ ہوئی؟ کیا کسی میپکو اہلکار یا دیگر سہولت کار کا کردار سامنے آیا؟ اور اگر مزید افراد کی نشاندہی متوقع تھی تو اس نشاندہی کا نتیجہ کیا نکلا؟اصل سوال ایف آئی آر سے شروع اور چالان پر ختم نہیں ہوتا بلکہ عدالت کے فیصلے تک جاتا ہے۔ ایف آئی آر نمبر، متعلقہ تھانہ، تفتیشی افسر، مقدمے میں شامل دفعات، ریمانڈ، ضمانت، تفتیش کی تکمیل، چالان اور موجودہ عدالتی اسٹیٹس ،یہ وہ دستاویزی کڑیاں ہیں جن سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی واقعی انجام تک پہنچی یا صرف گرفتاری اور پریس ریلیز تک محدود رہی۔دوسری طرف میپکو ریجن میں ڈیجیٹل میٹر ریورسنگ کے نئے مبینہ طریقۂ واردات کی اطلاعات نے معاملے کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں میٹر کھول کر چِپ یا دیگر آلات کے ذریعے چھیڑچھاڑ کی جاتی تھی، جبکہ اب جدید” سائنسدانوں”کی جانب سے مخصوص سافٹ ویئر اور موبائل فون کے ذریعے میٹر ریڈنگ میں مبینہ ردوبدل کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس جدید طریقۂ واردات کی سرکاری یا آزاد فرانزک تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، اس لیے اس دعوے کی مکمل تکنیکی تحقیقات ضروری ہیں۔اگر واقعی ڈیجیٹل میٹرز کی ریڈنگ میں میٹر کھولے بغیر بیرونی یا سافٹ ویئر ذرائع سے ردوبدل ممکن ہے تو معاملہ روایتی بجلی چوری سے کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اس صورت میں میٹر کی سالمیت، ریڈنگ ڈیٹا، بلنگ سسٹم، میٹر ایونٹ لاگ اور پورے بجلی چوری مانیٹرنگ نظام کی سکیورٹی پر سوال اٹھتا ہے۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر اصل ٹیکنیکل نیٹ ورک کے بجائے صرف صارف کو پکڑ کر جرمانہ عائد کیا جاتا رہا تو بجلی چوری کا بنیادی ذریعہ ختم نہیں ہوگا۔ ایک صارف کے بعد دوسرا صارف اور ایک میٹر کے بعد دوسرا میٹر اسی تکنیک کا شکار ہوگا۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کا بوجھ ایماندار صارفین پر منتقل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اگر میپکو کو کسی صارف کے خلاف ڈیٹیکشن بل جاری کرنا پڑتا ہے تو اس کے پیچھے موجود میٹر ٹیسٹ رپورٹ، سابقہ ریڈنگ، موجودہ ریڈنگ، میٹر ایونٹ لاگ اور چوری کا تکنیکی ثبوت بھی شفاف ہونا چاہیے تاکہ بے گناہ صارف اور حقیقی بجلی چور میں فرق برقرار رہے۔ب گیند میپکو اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے کورٹ میں ہے اور سوالات واضح ہیں کہ شاہ رکن عالم کے 11 ملزمان کے ایف آئی آر نمبرز کیا ہیں۔ ؟ اورمقدمات کس تفتیشی افسر کے پاس رہے؟چالان کب اور کس عدالت میں پیش ہوا؟کتنے ملزمان ضمانت پر ہیں؟کیا کسی کو سزا ہوئی؟موسیٰ پاک کے رانا ظفر اور اختر بھٹہ کیس میں مزید کتنے افراد کی نشاندہی ہوئی؟کیا مبینہ ریورسرز سے میٹر ریورس کروانے والے صارفین کا نیٹ ورک سامنے آیا؟کیا کسی محکمہ جاتی اہلکار یا سہولت کار کے خلاف کارروائی ہوئی؟ اگر کارروائی نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی؟یہ سوالات کسی فرد یا ادارے کو مجرم قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ قانونی کارروائی کی شفافیت جانچنے کے لیے ہیں۔ اگر کہیں تفتیش رکی ہوئی ہے تو اس کی وجہ بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے۔بجلی چوری کے خلاف جنگ پریس ریلیز، چند گرفتاریوں اور جرمانہ بلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب میٹر ریورس کرنے والا ٹیکنیکل نیٹ ورک، اس کے سہولت کار، مبینہ صارفین اور اگر کوئی محکمہ کے سہولت کاربھی قانون کے شکنجے میں آئیں۔عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری، چیف ایگزیکٹو میپکو انجینئر جام گل محمد زاہد، ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل میٹر ریورسنگ کے تمام نمایاں کیسز کا ایف آئی آر سے عدالت تک مکمل آڈٹ کرایا جائے اور اس کا نتیجہ سامنے لایا جائے کیونکہ سوال کسی فرد کو مجرم قرار دینے کا نہیں، نظام کی شفافیت کا ہے۔ اگر کارروائی میرٹ پر ہوئی ہے تو ایف آئی آر سے چالان اور عدالت تک مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے؛ اور اگر کہیں تفتیش رکی، فائل دبی یا معاملہ طے ہوا تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کیونکہ عوام کا سوال اب یہ نہیں کہ میٹر ریورس کون کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ پکڑے جانے کے بعد اسے بچاتا کون ہے؟اس حوالے سےمیپکو ترجمان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم رابطہ نہ ہوسکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں