تنخواہ کی آس اور خودداری کی جنگ، ملتان کی اقلیت برادری کا درد کون محسوس کرے

تحریر: یاسر مجید
طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی جب ملتان کی گلیاں اور سڑکیں بیدار ہونا شروع ہوتی ہیں، تو 45 سالہ روشن مسیح اپنے جلے ہوئے ارمانوں اور معاشی بوجھ کے ساتھ گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں۔ روشن مسیح، جو ایک مسیحی اقلیتی شہری ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے بلدیاتی و انتظامی شعبے میں شب و روز محنت اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ لیکن آج ان کا سفر محض روزگار کی تلاش نہیں، بلکہ اپنی بقا، بچوں کی روٹی اور تحقیر کے خلاف اپنی خودداری کو بچانے کی ایک خاموش مگر دردناک جنگ بن چکا ہے۔
روشن مسیح پانچ نفوس پر مشتمل ایک غریب خاندان کے واحد کفیل ہیں۔ ان کا خاندان ان کی ذات، ان کی بیمار اہلیہ اور اسکول جانے والے تین معصوم بچوں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف فلک بوس مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے تو دوسری طرف ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے روشن مسیح کو 1500 روپے یومیہ اجرت کے حساب سے پچھلے تین ماہ سے ان کی جائز اور محنت سے کمائی ہوئی تنخواہ تک سے محروم رکھا گیا ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں، جہاں ہر مہینے کے آغاز میں مکان مالک کی سخت تنبیہ اور کرایہ کی ادائیگی کا ہتھوڑا ان کے سر پر مسلط رہتا ہے۔
“جب مہینے کا آخری دن گزرتا ہے اور جیب خالی کی خالی رہ جاتی ہے، تو گھر لوٹتے ہوئے بچوں کی امید سے بھری آنکھوں کا سامنا کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے،” روشن مسیح انتہائی دل برداشتہ لہجے میں بتاتے ہیں۔ “مکان مالک نے واضح کہہ دیا ہے کہ اگر اس بار کرایہ نہ ملا تو سامان گلی میں پھینک دیا جائے گا۔ گلی کا دکاندار اب سودا سلف ادھار دینے سے صاف انکار کر چکا ہے۔ میں اپنے معصوم بچوں کو کیا جواب دوں کہ ان کا باپ دن رات پسینہ بہانے کے بعد بھی ان کے لیے دو وقت کی روٹی کیوں نہیں لا سکتا؟”
روشن مسیح کی یہ الم ناک داستان کوئی انفرادی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ملتان میں مقیم اقلیتی برادری کے مجموعی آلام کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس وقت ملتان کے ستھرا پنجاب میں تقریباً 30 ہندو اور 200 کے قریب مسیحی ملازمین سروسز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ تمام ڈیلی ویجز اقلیتی ملازمین انتہائی نامساعد حالات، صفائی ستھرائی کے کٹھن کاموں اور شدید ترین موسمی سختیوں کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔
چاہے کڑاکے کی سردی میں صبح کے چار بجے گلیوں کی صفائی ہو یا جھلسا دینے والی گرمی میں سڑکوں پر مشقت، ان اقلیتی کارکنوں نے شہر کو صاف ستھرا اور تحرک میں رکھنے کے لیے اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ لیکن اس لازوال خدمات کے بدلے انہیں کیا ملا؟ پچھلے تین ماہ سے روکی گئی 1500 روپے یومیہ کی تنخواہیں، انتظامی غفلت اور بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی۔ آج ان سینکڑوں اقلیتی خاندانوں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ چکی ہے۔ ادویات کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بزرگ اور بچے علاج سے محروم ہیں، اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
اگرچہ گزشتہ تین مہینوں سے تنخواہ نہ ملنا ان ملازمین کے لیے ایک بڑا معاشی عذاب ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور روح فرسا پہلو وہ سماجی رویہ ہے جس کا سامنا انہیں دورانِ کار کرنا پڑتا ہے۔ محنت کش اقلیتی افراد کو نہ صرف معاشی عدم استحکام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کی انسانی تذلیل بھی روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ کام کے دوران اکثر افسران، ساتھی ملازمین یا مقامی افراد کی جانب سے انہیں “اوئے، ابے” جیسے انتہائی تحقیر آمیز، ذات پات پر مبنی اور توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔
ایک مسیحی صفائی ملازم نے اپنے گہرے کرب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا: “ہم روزانہ اس شہر کی نجاست صاف کرتے ہیں تاکہ یہاں کے شہری ایک پاکیزہ اور صحت مند ماحول میں سانس لے سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے معاشرہ اور انتظامیہ ہمیں انسان سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ جب ہمیں نام کے بجائے ‘چوہڑا’ کہہ کر پکارا جاتا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیا اقلیت میں پیدا ہونا کوئی جرم ہے؟ کیا ہماری محنت کا صلہ صرف تحقیر اور فاقہ کشی ہے؟”
پاکستان کا آئین اور عالمی منشورِ انسانی حقوق تمام شہریوں کو برابر کے حقوق، ملازمت کے تحفظ، بروقت اجرت اور بلا تفریقِ مذہب و نسل انسانی عزت و احترام کی مکمل ضمانت دیتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 36 اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ لیکن ملتان میں رونما ہونے والے یہ واقعات آئینی و قانونی ضمانتوں کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ انتظامیہ کی خاموشی اور اس سنگین معاملے پر آنکھیں موندھ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اقلیتی ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کوئی جاندار حکمتِ عملی موجود نہیں ہے۔
ملتان میں محنت کرنے والے تمام اقلیتی ملازمین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ روشن مسیح اور دیگر تمام 200 سے زائد ڈیلی ویجز اقلیتی ملازمین کی گزشتہ تین ماہ کی روکی گئی تنخواہیں (1500 روپے یومیہ کے حساب سے) اور بقایا جات بلا تاخیر جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ کام کی جگہوں پر اقلیتی ملازمین کے خلاف توہین آمیز اور ذات پات پر مبنی الفاظ استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف انسدادِ تفریق قوانین کے تحت سخت قانونی و انتظامی ایکشن لیا جائے، ملازمین کی ملازمتوں کو مستقل کر کے انہیں ہیلتھ الائونس فراہم کیا جائے، اور تمام اداروں میں اقلیتی برادری کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔
روشن مسیح اور ان کے ساتھی کوئی خیرات یا رعایت نہیں مانگ رہے، وہ صرف اپنی خون پسینے کی کمائی اور بحیثیت انسان عزت سے جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔ اگر وقت رہتے ان محنت کشوں کے جذبات اور معاشی حالت کا مداوا نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک انتظامی ناکامی تصور ہوگی بلکہ ہمارے معاشرتی ضمیر پر بھی ایک کالا دھبہ رہے گا۔ اربابِ اختیار کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ملتان کے اس انسانی المیے کا نوٹس لیں اور ان بے بس شہریوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور عزتِ نفس کا سویرہ لائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں