ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل) ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں سمگلنگ مافیا کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے، بلوچستان سے پنجاب کے علاقوں رونگھن، تمن لغاری اور تمن کھوسہ تک نان کسٹم پیڈ اشیاء اور گاڑیوں کی اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک سرگرم ہے گزشتہ ماہ میں ایک ہفتہ کے دوران تین مرتبہ بی ایم پی تھانہ لاکھا کے اہلکاروں کو اسمگلروں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اسمگلروں کی طرف سے بی ایم پی اہلکاروں پر فائرنگ، حملوں، اہلکاروں کو مبینہ طور پر یرغمال بنانے، سرکاری اسلحہ و گاڑی چھیننے اور سرکاری گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہےتاہم متعلقہ ادارہ مقدمات کے اندراج سے آگے مؤثر کارروائی نہ کر سکا، اور آفیسران بھی اسمگلروں کے خلاف ٹھوس کاروائی کرنے سے گریزاں اور مجبور بن کر بے بس بنے ہوئے ہیں جبکہ اسمگلروں نے تھانہ لاکھا کے سامنے ہی ڈیرے قائم کرکے نان کسٹم پیڈ اشیاء کی ترسیل کے لیے اڈا بنا رکھا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خیرو ممدانی لغاری اپنے بعض رشتہ داروں کے ہمراہ مبینہ اسمگلنگ نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہے ہیں جبکہ منظور مندوست، منظور کھوسہ، عبدالسلام کھوسہ، شریف کھوسہ اور خیرا کھوسہ سمیت متعدد افراد کے نام بھی مبینہ اسمگلنگ کے حوالے سے سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب تھانہ لاکھا میں تعینات ایس ایچ او اعجاز کھوسہ کی جانب سے مبینہ اسمگلنگ روکنے کے لیے ناکہ بندی شروع کیے جانے کے بعد بی ایم پی اہلکاروں پر فائرنگ، حملوں، اہلکاروں کو مبینہ طور پر یرغمال بنانے، سرکاری اسلحہ و گاڑی چھیننے اور سرکاری گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ گزشتہ سے پیوستہ شب تکڑو میں مبینہ طور پر اسی گروہ سے منسلک افراد کی شادی کی تقریب میں میوزیکل پروگرام کے دوران رات بھر ہوائی فائرنگ کی اطلاعات نے بھی قانون کی عملداری پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مبینہ اسمگلنگ نیٹ ورک میں بلوچستان سے پنجاب تک سامان کی ترسیل کے لیے مختلف مقامات کو مبینہ طور پر اسٹاپس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رونگھن میں خیرو ممدانی لغاری کے ڈیرے کو ایک مبینہ اسٹاپ، اس کے بعد منظور مندوست کے ڈیرے کو دوسرا اسٹاپ جبکہ مزید آگے خیرا کھوسہ کی مبینہ سرپرستی میں مختلف مقامات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ رونگھن سے لاکھا، تمن کھوسہ تک مبینہ اسمگلنگ کے حوالے سے منظور کھوسہ، عبدالسلام کھوسہ، شریف کھوسہ اور خیرا کھوسہ کے نام زیرِ بحث ہیں۔ الزام ہے کہ نان کسٹم پیڈ اشیاء کو تمن کھوسہ اور لاکھا سے ڈیرہ غازی خان شہر تک پہنچانے کے لیے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے رکنی سے پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کے لیے مبینہ طور پر کھرڑ بزدار اور مبارکی کے راستوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دے کر گاڑیاں اور نان کسٹم پیڈ اشیاء پنجاب منتقل کی جاتی ہیں۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ شریف کھوسہ اور خیرا کھوسہ کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بعض کزن، بھائی اور چچا بی ایم پی، بلوچ لیوی سمیت مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت کر رہے ہیں، جبکہ الزام ہے کہ بعض سرکاری ملازمین مبینہ طور پر اپنے رشتہ داروں کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض اسمگلنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرکاری اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری اور ریاستی اداروں کے اندر ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کی تحقیقات کا بھی تقاضا کرتا ہے۔دوسری جانب تھانہ لاکھا میں نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ او اعجاز کھوسہ نے مبینہ طور پر اسمگلنگ میں سازباز سے انکار کرتے ہوئے کارروائی اور ناکہ بندی شروع کی تو صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق ایک ہفتے کے دوران متعدد مرتبہ ایس ایچ او اور بی ایم پی اہلکاروں پر مبینہ حملے کیے گئے، فائرنگ کی گئی، اہلکاروں کو مبینہ طور پر یرغمال بنایا گیا، سرکاری اسلحہ اور گاڑی چھیننے جبکہ سرکاری گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے واقعات بھی پیش آئے۔مقامی حلقوں کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر تین مرتبہ بی ایم پی تھانہ لاکھا کے اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم الزام ہے کہ متعلقہ ادارہ مقدمات کے اندراج سے آگے مؤثر کارروائی نہ کر سکا، جس کے باعث علاقے میں خوف ، واقعات کا فوری نوٹس لے کر غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔







