میپکو ملازمین اور بجلی چوروں کا مبینہ گٹھ جوڑ، ہزاروں یونٹس کی بکنگ غائب ہونیکا انکشاف

ملتان ( قوم ریسرچ سیل )ہزاروں،لاکھوں یونٹس چلاکرمیٹرغائب کردو،محکمہ کانقصان بے قصور صارفین سے پوراکرو۔بجلی چوروں اورمیپکو ملازمین کاگٹھ جوڑ۔مافیاکامکروہ دھندا ۔خانیوال کے بعد ملتان میں بھی بجلی چوری کا شرمناک اسکینڈل، شاہ رکن عالم کے علاقے میں کئی ماہ تک تھری فیز میٹر کی بلنگ نہ ہوئی، تقریبا” 15 ہزاریونٹس چلنے والاتھری فیزمیٹرغائب کئے جانے سے پہلے میپکوسرکل ٹیم نے چھاپہ ماردیا۔ذرائع کے مطابق خانیوال کے بعد ملتان میں بھی بجلی چوری اور مبینہ ملی بھگت کا ایک سنگین معاملہ سامنے آگیا۔ شاہ رکن عالم سب ڈویژن سے گلبرگ سب ڈویژن منتقل ہونے والے تھری فیز میٹر کی کئی ماہ تک بلنگ نہ ہونے اور ہزاروں یونٹس کے معاملے نے میپکو کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔بتایاگیاہے کہ شفق سلمان اسسٹنٹ ڈائریکٹرہائوسنگ کے نام سے انسٹال مذکورہ کنکشن کا ریفرنس نمبر 19151911619400 تھا۔ بعد ازاں میٹر گلبرگ سب ڈویژن کی حدود میں منتقل ہوا تو اس کا ریفرنس نمبر تبدیل ہوکر 28151943619400 ہوگیا۔ذرائع کے مطابق شاہ رکن عالم سب ڈویژن کی حدود میں کئی ماہ تک اس میٹر کی مناسب بلنگ نہ ہونے کے باعث ہزاروں یونٹس کا معاملہ ریکارڈ پر نہ آسکا۔اب میٹرکوغائب کرنے کی منصوبہ بندی ہوچکی تھی۔ اسی دوران میپکو سرکل ٹیم نے چھاپہ مار کر معاملہ پکڑ لیا۔ اس وقت میٹرپرتقریبا” 15ہزار یونٹس چل چکے تھے۔چھاپے کے بعد مبینہ طور پر مافیا میں بھگدڑ مچ گئی اور میٹر کی تنصیب و دستاویزات کو قانونی شکل دینے کے لیے فوری بھاگ دوڑ شروع کردی گئی۔ تاہم سرکل ٹیم کی کارروائی کے باعث معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آگیا۔کارروائی کے نتیجے میں صارف کو تقریباً دس لاکھ روپے کا یکمشت بل چارجز ادا کرنا پڑے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ میٹر کئی ماہ تک بلنگ سے باہر کیوں رہا، ہزاروں یونٹس کی بروقت ریڈنگ اور بلنگ کیوں نہ ہوئی اور میٹر کی تنصیب و منتقلی کا ریکارڈ کس بنیاد پر تیار کیا گیا؟ذرائع نے معاملے میں بعض اہلکاروں، یونین عہدیدار اور ایک اعلیٰ افسر کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ جس کی بناپربجلی چوری کی کارروائی کئے جانے کی بناپرمحض صارف کوتقریبا” 10 لاکھ روپے کایکمشت بل ڈال کرمعاملہ دبادیاگیا۔ جس کے لیے محکمانہ ریکارڈ، میٹر انسٹالیشن کی منظوری، ریڈنگ ہسٹری، بلنگ ڈیٹا اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے بیانات کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔یہ کیس اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اگر بروقت چھاپہ نہ پڑتا تو نہ صرف ہزاروں یونٹس کی مبینہ عدم بلنگ کا معاملہ مزید طول پکڑ سکتا تھا بلکہ میٹر ہی غائب ہوجاتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میپکو اعلیٰ حکام اس معاملے میں صرف دس لاکھ روپے کی ریکوری پر اکتفا کرتے ہیں یا کئی ماہ تک بلنگ نہ ہونے کی اصل وجہ اور مبینہ سہولت کاری کی بھی تہہ تک پہنچتے ہیں۔اس صورتحال میں شدید افسوسناک امریہ ہے کہ بجلی چوروں سے ہونے والانقصان بے قصورصارفین کوناجائزیونٹس ڈال کرپوراکیاجاتاہے۔ناجائز جرمانوں وڈیٹکشن بلزکے نام پربے قصورصارفین کی ” کھال اتاری جاتی ہے۔”اس میں عملہ کی ملی بھگت شامل ہوتی ہے۔ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ محض ایک کیس نہیں بلکہ ایسے متعدد معاملات ابھی منظرعام پر نہیں آسکے، جن میں بجلی چوری کے مبینہ نقصانات عام صارفین پر منتقل کئے جاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی بجائے ان کا نقصان بے قصور صارفین سے وصول کیا جا رہا ہے تو اصل بجلی چوروں اور مبینہ سہولت کار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟،سی ای او میپکو انجینئرجام گل محمد زاہد،چیف انجینئر سی ایس ڈی سید جوادمنصورشاہ، ایس ای ملتان سرکل ساجدحسین گوندل وایکسین انجینئررانامحمد تنویر سخت ایکشن لیں۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پرمیپکوحکام نے بتایاکے بے ضابطگیوں کے مرتکب میپکوافسران وملازمین کیخلاف محکمانہ احتساب کیاجاتاہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں