لیہ( نمائندہ قوم )دریائے سندھ کے کنارے واقع لیہ کی بستی کنجال میں دریائی کٹاؤ نے ایک بار پھر دریا کے بدلتے ہوئے بہاؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ موضع سمرا نشیب کی بستی کنجال اور ملحقہ آبادیوں میں کئی مقامات پر دریا کا کنارہ تیزی سے کٹ رہا ہےجس سے قیمتی زرعی اراضی اور آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔حالیہ بارشوں اور دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد دریائی کٹاؤ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد متاثرہ علاقوں میں عارضی حفاظتی اقدامات بھی کر رہے ہیں تاکہ فصلوں اور گھروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔تاہم بستی کنجال میں جاری کٹاؤ کو صرف پانی میں اضافے کا نتیجہ قرار دینا اس پورے عمل کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔ دریائے سندھ ایک متحرک دریا ہے جس کا بہاؤ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ دریا کے موڑ پر جہاں پانی کا دباؤ بیرونی کنارے پر زیادہ ہوتا ہے، وہاں کٹاؤ کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ریت اور دریائی تلچھٹ جمع ہونے سے نئی زمین بنتی رہتی ہے۔یوں دریا ایک طرف زمین کو کاٹتا ہے تو دوسری جانب اپنے بہاؤ کے لیے نئی جگہ بھی بناتا ہے۔ یہی قدرتی عمل طویل عرصے میں دریا کے چینل کی پوزیشن تبدیل کرنے کا سبب بنتا ہے۔لیہ کے دریائی علاقے پر ہونے والی جغرافیائی تحقیق میں بھی دریائے سندھ کے چینل میں وقت کے ساتھ تبدیلی، کٹاؤ اور تلچھٹ جمع ہونے کے عمل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2002، 2009 اور 2016 کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے لیہ اور مظفرگڑھ کے دریائی حصے میں چینل شفٹنگ ریکارڈ کی گئی۔بستی کنجال کی موجودہ صورتحال کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں دریائی کٹاؤ کوئی نیا مظہر نہیں۔ماضی میں بھی بستی گرمانی، کلور، بستی کنجال اور ملحقہ علاقوں میں دریائی کٹاؤ سے آبادیوں اور زرعی زمین کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔







