سولر کا بڑھتا رجحان، میپکو بجلی فروخت میں نمایاں کمی، قومی گرڈ کو نئے چیلنجز

ملتان (وقائع نگار)سولر کا بڑھتا رجحان، میپکو کی بجلی فروخت میں نمایاں کمی، قومی گرڈ کو نئے چیلنجز کا سامنا۔ ملک میں سولر انرجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے نئے معاشی اور انتظامی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جبکہ مہنگی بجلی اور بلند ٹیرف کے باعث صارفین کی بڑی تعداد متبادل توانائی کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ اس رجحان کا نمایاں اثر میپکو کے زیرانتظام علاقوں میں بھی سامنے آیا ہے جہاں گھریلو اور کمرشل صارفین کی گرڈ سے بجلی خریداری میں کمی ریکارڈ کی گئی۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جون 2025 کے دوران گھریلو صارفین کی بجلی خریداری میں سالانہ بنیادوں پر بالترتیب 19.69 فیصد، 7.92 فیصد اور 5.72 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح کمرشل صارفین کی بجلی خریداری بھی انہی تین ماہ کے دوران بالترتیب 6.85 فیصد، 3.80 فیصد اور 1.85 فیصد کم رہی۔ یوں تین ماہ کے دوران میپکو کے علاقوں میں گرڈ سے بجلی کی طلب پر سولر منتقلی کا واضح اثر دیکھا گیا۔میپکو جنوبی پنجاب کے ایک بڑے حصے کو بجلی فراہم کرنے والی تقسیم کار کمپنی ہے اور اس کے مستقبل کے کاروباری و سرمایہ کاری منصوبے بھی NEPRA کے سامنے زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔ NEPRA نے میپکو کے مالی سال 2025-26 سے 2029-30 کے پانچ سالہ ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلان اور ٹیرف سے متعلق درخواستوں پر کارروائی بھی کی ہے۔ماہرین کے مطابق بجلی کے بلند نرخ، سولر پینلز کی نسبتاً کم ہوتی لاگت اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی سے فائدہ اٹھانے کی سہولت نے گھریلو اور کاروباری صارفین کو سولر سسٹم نصب کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دن کے اوقات میں گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہونے لگی ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں گھروں، دکانوں، مارکیٹوں اور زرعی صارفین نے سولر سسٹم نصب کر رکھے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں