زکریا یونیورسٹی، ایل ایل بی داخلے کے نام پر رشوت لیتے گڑیڈ 16 کا اہلکار گرفتار

ملتان ( خصوصی رپورٹر) بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں اینٹی کرپشن کا چھاپہ، کنٹرولر آفس سکریسی برانچ کا اہلکار رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار،ایل ایل بی میں داخلے کے نام پر پہلے 40 ہزار روپے وصول، مبینہ بوگس داخلہ سلپ دینے کے بعد مزید 50 ہزار روپے لیتے ہوئے پکڑا گیا، نشان زدہ رقم برآمد تفصیل کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کامیاب ٹریپ ریڈ کرتے ہوئے کنٹرولر آفس سکریسی برانچ کے گریڈ 16 کے اسسٹنٹ ملک شوکت حیات کو مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ملک شوکت حیات کو کنٹرول آفس کے باہر سے حراست میں لیا گیا اور اینٹی کرپشن ٹیم نے ملزم کے قبضے سے رشوت کی نشان زدہ رقم 50 ہزار روپے بھی برآمد کر لی، جبکہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے،اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کارروائی 19 اگست 2026 کو ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان بشارت نبی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ سرکل آفیسر اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹر ملتان مختیار حسین اور ان کی ٹیم نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عاطف خان کی زیر نگرانی ٹریپ ریڈ کیا۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ایک شہری محمد عابد ولد محمد شریف نے ایل ایل بی میں داخلے کے لیے ملزم ملک شوکت حیات سے رابطہ کیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزم نے داخلہ کروانے کے عوض سائل سے پہلے 40 ہزار روپے رشوت وصول کی اور اسے داخلے کی سلپ فراہم کی، تاہم بعد ازاں مذکورہ داخلہ مبینہ طور پر بوگس ثابت ہوا۔ داخلہ بوگس ثابت ہونے کے بعد سائل نے دوبارہ ملزم سے رابطہ کیا تو ملزم نے مبینہ طور پر ریگولر داخلہ کروانے کے عوض مزید 50 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق سائل کی شکایت پر کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا، نشان زدہ کرنسی سائل کے حوالے کی گئی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں ٹیم تشکیل دے کر ٹریپ ریڈ کیا گیا۔ جیسے ہی ملزم نے 50 ہزار روپے رشوت وصول کی، اینٹی کرپشن ٹیم نے اسے موقع پر گرفتار کرلیا،ملک شوکت حیات کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ ترجمان اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوامی شکایات کے مؤثر ازالے، شفاف طرز حکمرانی کے فروغ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے قانونی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں