سولر صارفین پر بجلی گرانے کی تیاری، فی کلو واٹ ہزار روپے فکس چارج، 84 ارب کمائی

ملتان (اعجازمرتضیٰ سے)حکومت کاسولر صارفین پر’’بجلی گرانے‘‘کا منصوبہ،ایک ہزار روپے فی کلوواٹ فکس چارج کا نیا پلان تیارکرلیا،نیٹ میٹرنگ صارفین کو اربوں روپے کا جھٹکا، 7 ہزار میگاواٹ صلاحیت پر سالانہ 84 ارب روپے وصولی کا امکان،ذرائع کے مطابق حکومت پاورسیکٹر میں صارفین کیلئے نئی سے نئی مشکلات پیداکئے جارہی ہے۔ اب سولر صارفین پر نئے مالی بوجھ کی تیاری نے لاکھوں صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے فکس چارجز میں بڑے اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ موجودہ فکس چارجز کے مقابلے میں فی کلوواٹ ایک ہزار روپے کی شرح صارفین کے لیے بھاری اضافی بوجھ بن سکتی ہے۔دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت تقریباً 6500 سے 7000 میگاواٹ بتائی گئی ہے۔ نیپرا کے ایک حالیہ فیصلے میں بھی ملک میں نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 6539 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔اگر ایک ہزار روپے فی کلوواٹ ماہانہ فکس چارج کو موجودہ تقریباً 7000 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ صلاحیت پر لاگو کرنے کا مفروضہ اختیار کیا جائے تو 70 لاکھ کلوواٹ پر ماہانہ تقریباً 7 ارب روپے بنتے ہیںیعنی سالانہ تقریباً 84 ارب روپےجیبوں سے نکالے جائینگے۔337.50 سے ایک ہزار روپے؛ 55 ارب روپے کا اضافی بوجھ اگر موجودہ 337.50 روپے فی کلوواٹ کی شرح کو تقابلی بنیاد بنایا جائے تو 7,000 میگاواٹ پر ماہانہ فکس چارج تقریباً 2 ارب 36 کروڑ روپے بنتا ہے۔ ایک ہزار روپے کی شرح کی صورت میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 7 ارب روپے ماہانہ ہو جائے گی۔یوں سولر صارفین پر تقریباً 4 ارب 64 کروڑ روپے ماہانہ اور تقریباً 55 ارب 65 کروڑ روپے سالانہ اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔تاہم یہ ایک تخمینی حساب ہے، کیونکہ فکس چارج کی اصل وصولی صارف کے منظورشدہ لوڈ۔ایم ڈی آئی اور متعلقہ ٹیرف کیٹیگری کے مطابق ہوتی ہے؛ اسے براہِ راست سولر پلانٹ کی انسٹال کیپسٹی کے برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ٹیرف گائیڈ کے مطابق جہاں فی کلوواٹ فکس چارج لاگو ہوتا ہے وہاں بلنگ منظورشدہ لوڈ۔ ایم ڈی آئی کے مخصوص فارمولے کے تحت کی جاتی ہے۔پانچ کلوواٹ صارف کو 5 ہزار روپے ماہانہ ایک ہزار روپے فی کلوواٹ فکس چارج کی صورت میں 5 کلوواٹ کے صارف پر 5 ہزار روپے ماہانہ، 10 کلوواٹ پر 10 ہزار روپے اور 15 کلوواٹ پر 15 ہزار روپے ماہانہ فکس چارج بنتا ہے۔اس کے مقابلے میں 337.50 روپے فی کلوواٹ کی شرح پر یہی رقم بالترتیب 1,687.50، 3,375 اور 5,062.50 روپے بنتی ہے۔ چنانچہ 5 کلوواٹ صارف کے لیے اضافی بوجھ 3,312.50 روپے ماہانہ، 10 کلوواٹ کے لیے 6,625 روپے اور 15 کلوواٹ کے لیے تقریباً 9,938 روپے ماہانہ بنتا ہے۔نئے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا نظام دوسری جانب حکومت نے نئے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی اور گرڈ کو واپس فراہم کی جانے والی اضافی سولر بجلی کا حساب الگ بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اس تبدیلی نے سولر سرمایہ کاری کی لاگت پوری ہونے کے عرصے و صارفین کی بچت پر بھی سوالات اٹھادئیے ہیں۔دستیاب رپورٹس کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد تقریباً 4.66 لاکھ ہے، جبکہ نئے نیٹ بلنگ صارفین کی الگ قومی تعداد ابھی سرکاری طور پر واضح طور پر جاری نہیں کی گئی۔ایک ہزار روپے فی کلوواٹ چارج کی اصل نوعیت بھی اہم ہہاں ایک اہم فرق بھی سامنے آیا ہے۔ اپریل 2026 میں نیپرا نے نئے سولر کنکشنز کے لیے ایک ہزار روپے فی کلوواٹ پراسیسنگ فیس متعارف کرانے کی تصدیق کی تھی۔ یہ ماہانہ فکس چارج نہیں بلکہ درخواست کے وقت فی کلوواٹ فیس ہے۔ لیکن اب ماہانہ فکس چارجزفی کلوواٹ 1000 روپے کئے جانے کے منصوبے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔سولر صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کرکے بجلی پیدا کرنے کا انتظام کیا، گرڈ پر اپنا انحصار کم کیا اور قومی گرڈ پر طلب کم کرنے میں کردار ادا کیا، مگر اب مختلف فیسوں، فکس چارجز اور نیٹ بلنگ کے ذریعے اسی طبقے پر مسلسل مالی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ سولر صارفین بھی گرڈ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے رہتے ہیں، اس لیے ان سے مقررہ اخراجات کی وصولی ضروری ہے۔ نیپرا کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ سولر کی وجہ سے بجلی کی فروخت میں کمی آئی ہے اور اس کے اثرات مجموعی گرڈ ٹیرف پر بھی پڑ رہے ہیں۔عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بجلی کے شعبے کی مالی مشکلات کا حل ہر بار صارفین کی جیب سے رقم نکال کر ہی کیوں تلاش کیا جاتا ہے۔اگر ایک ہزار روپے فی کلوواٹ ماہانہ فکس چارج واقعی ملک کی تقریباً 7 ہزار میگاواٹ موجودہ نیٹ میٹرنگ صلاحیت کے برابر بیس پر نافذ کیا جاتا ہے تو تخمینی طور پر 7 ارب روپے ماہانہ اور 84 ارب روپے سالانہ وصولی بنتی ہے، جبکہ 337.50 روپے کے تقابلی حساب سے تقریباً 55.65 ارب روپے سالانہ اضافی بوجھ ہے۔سولر صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے بجلی کی پیداواری لاگت، آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس ، لائن لاسز اور دیگر بنیادی مسائل کا مستقل حل نکالنا چاہیے، بجائے اس کے کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پہلے ہی پریشان عوام پر ایک اور مالی بوجھ ڈال دیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں