بی زیڈ یو: اساتذہ ملازمین کی سیاست عروج پر، وی سی نے دفتر کرش ہال منتقل کر دیا، دباؤ مسترد

ملتان (خصوصی رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کی سیاست ناقابل برداشت حد تک تجاوز کرگئی ہے جس کے باعث وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے اپنا دفتر کرش ہال منتقل کرکے دباؤ کے سامنے قانون سے ہٹ کر فیصلے نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کی تنظیموں کے مبینہ دباؤ اور گروپ بندی کی سیاست شدت اختیار کرگئی ہے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے مبینہ طور پر آئے روز کے دباؤ، ہراسانی اور احتجاجی طرزِ عمل کے سامنے ڈٹ جانے اور اپنا دفتر کرش ہال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں فیصلے قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گے، کسی گروپ کی دھونس یا دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔وائس چانسلر کے مطابق اساتذہ اور ملازمین کی ایسوسی ایشنز کی جانب سے آئے روز دباؤ اور کام نہ کرنے دینے کی دھمکیوں کے باعث معمول کے انتظامی امور چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف گروپ اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے باقاعدہ طریقہ کار اختیار کریں اور اگر کسی گروپ نے ملاقات کرنی ہے تو سب کے سامنے آکر اپنے مطالبات پیش کرے۔وائس چانسلر نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی میں قانون اور قواعد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی فرد یا گروپ کو ذاتی مفادات کے لیے ادارے کے انتظامی معاملات پر اثرانداز ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کے مطابق دھونس اور زبردستی کی سیاست ختم ہونے تک وائس چانسلر آفس کرش ہال میں ہی رہے گا۔وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی ایسوسی ایشن کی جانب سے تین مرتبہ وائس چانسلر آفس اور رجسٹرار آفس پر حملہ کیا گیاجبکہ ایک اساتذہ گروپ کو قانون اور قواعد کے مطابق کام کرنے کی ہدایت دینے پر رجسٹرار کے خلاف ہراسانی کے الزامات عائد کردیئے گئے۔بعض اساتذہ گروپس اپنی مرضی کے افراد کو پرکشش عہدوں پر تعینات کرانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ مطالبات پورے نہ ہونے پر وائس چانسلر کی کردار کشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کسی فرد یا گروپ کی جاگیر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ادارہ ہے جہاں تمام فیصلے میرٹ، قانون اور قواعد کے مطابق ہی ہوں گے۔وائس چانسلر کے مطابق موجودہ صورتحال میں بے جا ہراسانی اور دباؤ سے بچنے کا واحد راستہ اب یہی بچا ہے کہ آفس کو تالا لگا کر کرش ہال کے برآمدے میں کرسی لگائی جائے جوکہ اب ناگزیر ہوگیا ہے کیونکہ وہ کسی بھی دباؤ کے بجائے ادارے کے مفاد اور قانون کے مطابق امور چلانے کو ترجیح دیں گے۔یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کی تنظیموں کے درمیان جاری اختلافات اور وائس چانسلر کی جانب سے دفتر کرش ہال منتقل کیے جانے کے بعد کی صورتحال نے کیمپس میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں