ملتان(سپیشل رپورٹر ) ملتان پبلک سکول روڈ پر تیز رفتاری کے باعث افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں ایک ہی سرکاری گاڑی کیوجہ سے مبینہ طور پر یکے بعد دیگرے تین حادثات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں تین افراد کے شدید زخمی اور ایک زخمی شفیق ہانس کی حالت سیریس ہونے کی اطلاعات ہیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ ڈی ایچ اے حافظ شہباز اپنی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق سرکاری گاڑی کسٹمز کے ہیڈکلرک شاہکار صادق کی اہلیہ صفیحہ بانو چلا رہی تھیں۔جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے بعد پولیس نے گاڑی ڈرائیو کرنے والی خاتون اور ان کے شوہر کو تھانے منتقل کر دیا۔’’قوم ‘‘ڈیجیٹل پرخبرنشرہونےپرپولیس حکام حرکت میں آگئےاورطاقتورکسٹم اہلکارکی اہلیہ کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید کارروائی جاری ہے۔حادثے کے بعد کئی اہم سوالات بھی سامنے آگئے ہیں کہ مذکورہ سرکاری گاڑی کس مقصد کے لیے الاٹ کی گئی تھی اور کیا کسٹمزاہلکار کی اہلیہ کو اسے چلانے کی قانونی اجازت حاصل تھی؟ متعلقہ حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا جانا ضروری ہے کہ گاڑی چلانے والی خاتون کے پاس مؤثر ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا یا نہیں اور سرکاری گاڑی کے استعمال سے متعلق محکمانہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی یا نہیں۔اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھا یا گاڑی تیز رفتاری،غفلت اور لاپروائی سے چلائی گئی تو یہ انتہائی سنگین معاملہ ہوگا۔کیونکہ سڑک پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔اب اہم سوال یہ ہے کہ پولیس تحقیقات مکمل کرکے ذمہ دار خاتون کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے گی یا معاملہ مبینہ سفارش و دباؤ کی نذر ہو جائے گا ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی شفاف تحقیقات زخمیوں کو انصاف کی فراہمی اور سرکاری گاڑی کے مبینہ غیر مجاز استعمال کی بھی مکمل چھان بین کی جائے۔تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین پولیس کی تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔







