ملتان (وقائع نگار ) نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کو تقریباً نو برس مکمل ہونے کے باوجود یونیورسٹی کی مکمل اکیڈمک و انتظامی خودمختاری، فیکلٹی کی کمی، ریسرچ، امتحانی نظام، نئے تعلیمی پروگرامز اور فیکلٹی ڈویلپمنٹ سمیت مختلف بنیادی امور پر طبی و تدریسی حلقوں کے تحفظات بدستور موجود ہیں،طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک مکمل میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا مقصد محض موجودہ تدریسی ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں بلکہ ایسا جامع تعلیمی و تحقیقی ادارہ قائم کرنا تھا جہاں معیاری طبی تعلیم، تحقیق، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ، امتحانات، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور نئے اکیڈمک پروگرامز کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، تاہم نو برس بعد بھی متعدد شعبوں میں مزید پیشرفت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے،طبی حلقوں کے مطابق یونیورسٹی کے قیام کے بعد فیکلٹی کی کمی جیسے بنیادی مسئلے کو مکمل طور پر دور نہیں کیا جا سکا، جبکہ نئے تعلیمی پروگرامز کے اجراء، ریسرچ گرانٹس، تحقیقی منصوبوں، تحقیقی اشاعت، پوسٹ گریجویٹ تربیت، بین الاقوامی روابط اور فیکلٹی کی استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے بھی واضح اہداف کے حصول کا سوال موجود ہے،ان حلقوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی کارکردگی کو صرف جاری تعلیمی سرگرمیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات سے بھی جانچا جانا چاہیے کہ گزشتہ نو برس میں ادارے نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق کیا نئے سنگ میل عبور کئے، ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی توجہ کا ایک بڑا حصہ نشتر ہسپتال کے روزمرہ انتظامی امور پر بھی صرف ہوتا ہے، جن میں ادویات و دیگر اشیاء کی خریداری، مرمت، تزئین و آرائش اور دیگر انتظامی معاملات شامل ہیں،طبی و تدریسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال یونیورسٹی کا بنیادی تدریسی و تحقیقی مرکز ہونے کے باعث دونوں اداروں کا باہمی تعلق ناگزیر ہے، تاہم ہسپتال کے روزمرہ انتظامی معاملات اور یونیورسٹی کے وسیع تر اکیڈمک مینڈیٹ کے درمیان ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور مطلوبہ توازن بھی ضروری ہے،طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر آفس کا بنیادی فوکس پالیسی سازی، اکیڈمک قیادت، معیار تعلیم، ریسرچ، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، نئے پروگرامز اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر ہونا چاہیے، جبکہ ہسپتال کے روزمرہ امور ایک واضح انتظامی چین کے ذریعے چلائے جائیں تاکہ ذمہ داری اور جوابدہی کا تعین بھی واضح رہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ کا بڑا وقت روزمرہ ہسپتال انتظامیہ میں صرف ہو تو اکیڈمک، تحقیقی اور پالیسی معاملات کے لئے مطلوبہ توجہ متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، طبی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا یونیورسٹی کے قیام سے اب تک فیکلٹی کی منظور شدہ اور خالی آسامیوں، نئے تعلیمی پروگرامز، ریسرچ پراجیکٹس، تحقیقی مقالہ جات، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور معیار تعلیم کے اشاریوں کا کوئی جامع اور باقاعدہ جائزہ لیا گیا ہے یا نہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ نو برس کی کارکردگی کو اعدادوشمار کی بنیاد پر جانچنے کے لئے ایک جامع اکیڈمک و انتظامی آڈٹ یا پرفارمنس ریویو سامنے آنا چاہیے تاکہ کامیابیوں اور خامیوں دونوں کی نشاندہی ہو سکے،بعض حلقے یونیورسٹی کے اندر عہدیداروں، پروفیسرز اور شعبہ سربراہان کے درمیان مبینہ اختلافات کو بھی ادارے کی کارکردگی میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، ماہرین کے مطابق اگر ادارے کے اندر کسی نوعیت کے اختلافات موجود ہیں تو انہیں قانونی اور ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے اثرات طلبہ، مریضوں، فیکلٹی اور یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی پر مرتب نہ ہوں۔ دوسری جانب یونیورسٹی حکام کا مؤقف ہے کہ ادارے میں اکیڈمک اور تحقیقی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، مختلف شعبہ جات میں پوسٹ گریجویٹ پروگرامز، تحقیقی سرگرمیاں اور ریسرچ میتھاڈالوجی ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں، جبکہ فارمیسی اور الائیڈ ہیلتھ کے شعبے بھی فعال کئے گئے ہیں، حکام کے مطابق امتحانات، نتائج اور ڈگری سے متعلق نظام بھی فعال ہے اور یونیورسٹی میں اکیڈمک سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے،یونیورسٹی حکام کے مطابق کوالٹی انہانسمنٹ سیل اکیڈمک و انتظامی معیار کی نگرانی، پروگرامز کی سالانہ مانیٹرنگ، طلبہ و فیکلٹی کے فیڈ بیک اور کوالٹی ایشورنس کے مختلف اقدامات پر کام کر رہا ہے، جبکہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مختلف پروگرامز، امتحانی نتائج، تحقیقی سرگرمیوں اور تعلیمی سہولیات سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران یونیورسٹی نے اکیڈمک، تحقیقی، فیکلٹی اور انتظامی شعبوں میں متعدد اقدامات کئے ہیں۔







