ڈی ایچ کیو راجن پور میں کشیدگی عروج پر، ڈاکٹرز کے گروپ آمنے سامنے

راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) ڈی ایچ کیو راجن پور کشیدگی میں اضافہ، ایم این اےڈاکٹرحفیظ خان گروپ اورایم پی اےعبدالعزیزخان دریشک گروپ کےڈاکٹرزآمنےسامنے،ایم ایس ڈاکٹر عبدالحمیدانجم کوبچانے کےلئےایم پی اے
نےپورازورلگادیا۔دوسری طرف سینئرڈاکٹرزکی ہڑتال جاری ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال راجن پور کے ایم ایس کے رویہ اورایم ایل سی کے کیسوں میں ردوبدل ودیگر الزامات کے تحت ڈپٹی کمشنر راجن پور کے حکم پر بننے والی اے ڈی سی جی کی سربرائی میں چار رکنی انکوائری کمیٹی کا اجلاس۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں متاثرہ ڈاکٹرز ودیگر عملہ وایم ایس سے سوال جواب۔ مبینہ طور پر ایم ایس اور سی ای او کے درمیان تلخ کلامی۔ اٹھارہ اگست تک انکوائری رپورٹ مکمل کیے جانے کا امکاں۔ مقامی ایم پی اے نے بھی ایم ایس کو حمایت سے جواب دے دیا۔ سیاسی وسماجی حلقوں کا ہسپتال کو سیاسی دنگل بنانے کی بجائے صحت مرکز بنانے کا مطالبہ۔ پی ایم اے نے انکوائری کمیٹی کے بعد اگلے لائحہ عمل بارے مشاورت شروع کر دی۔ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب وصوبائی وزیر صحت عمران نزیر سے ملنے کا فیصلہ۔ تفصیل کے مطابق بار ہ اگست کو ایم ایس ڈاکٹر عبدالحمید خان نے سرجن عباس خان مزاری کو دفتر میں بلا کرکے گالیاں نکالنے کے علاوہ سیکورٹی گارڈ کے ذریعہ دفتر سے باہر نکال دیا۔ اور بعد ازاں ریڈلوجسٹ ڈاکٹرعدنان کے درمیان بھی ایم ایل سی کیسوں میں مرضی کے نتائج نہ دینے اور رپورٹس ونتائج میں ردوبدل نہ کرنے پر شدید جھڑپ ہوئی جس کی وجہ سے تمام سنیئر کنسلٹنٹ نے کام چھوڑ کرکے کیف ٹیرے میں اجلاس منعقد کرکے ایم ایس کے رویہ کے خلاف ہڑتال شروع کر دی۔ اور فیصلہ کیا گیا کہ ایم ایس ڈاکٹر عبدالحمیدانجم کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔ وفد تشکیل دیتے ہوئے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عامر بشیر ملک سے دفتر میں ملاقات کرکے تحفظات سے اگاہ کیا جس نے ایم ایس کی حمایت کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھکیاں دیں۔ بعد ازاں وفد نے ڈی سی سے ملاقات کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی قائم کرتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت کی۔ گزشتہ روز اے ڈی سی جی سیف اللہ نوید کی سربرائی میں اے ڈی سی جی جنرل راجن پور حافظ محمد عمران۔ سی ای او عامربشیر ملک۔ ڈاکٹر ثقلین پر مشتمل انکوائری کمیٹی نے تین گھنٹے تک سوال جواب کیے۔ متاثرہ ڈاکٹر نے وائس مسیج جس میں جوتے مارنے اور بے عزت کرنے کے ریکارڈ کے علاوہ ایم ایل سی میں ردوبدل پر مشتمل پانچ کیس کا ریکارڈ دیکھایا گیا۔ مبینہ طورپر ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایم ایس اور سی ای اوہیلتھ کے درمیان شدید جھڑپ کے علاوہ کافی دیر تک نوک جھوک ہو تی رہی۔ انکوائری کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ مورخہ اٹھارہ اگست کو صبح دس بجے ڈی سی راجن پو رکو پیش کرے گی۔ پی ایم اے کے عہدیدران ومتاثرہ ڈاکٹروں نے رابطے پر بتایا کہ ڈی سی کی رپورٹ کے بعد اگلا لالہ عمل طے کیا جائے گا۔ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت پنجاب۔ سیکرٹری صحت پنجاب کا اپشن موجود ہے۔وفد کی صورت میں ملاقات کرکے راجن پورکی تمام صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا۔ یہ بات اٹل حقیقت ہے کہ اس ایم ایس ڈاکٹر عبدالحمیدانجم کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ لیگی مقامی ایم پی اے نے عوامی پریشر اور دیگر پیرامیڈیکل سٹاف کی وجہ سے ایم ایس کو مزید مدد کرنے سے صاف جواب دے دیا ہے۔ سیاسی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کو سیاسی دنگل کا میدا ن بنانے کی بجائے عوامی وخدمت کا مرکز بنایا جائے۔ موقف لینے کے لیے ایم ایس سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن نمبر اٹینڈ نہ ہوا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں