لودھراں(بیورو رپورٹ)پنجاب فوڈ اتھارٹی لودھراں پر مبینہ طورپر رشوت لینے ،دوبارہ رشوت نہ دینے پر کمپنی کی پیک شدہ مرچوں کے نمونے حاصل کر کے رجسٹرڈ کمپنی کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے یونیورسٹی کے طالب علم پر مقدمہ درج کروانے کیلئے پولیس کو استغاثہ بھجوانے جیسے الزامات ۔ گزشتہ روز رشید کریانہ مرچنٹ کے مالک محمد تنویر نے صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن لودھراں کے صدرریاست علی عباسی،جنرل سیکرٹری چوہدری سعید ،سابق صدرحاجی ظہور بھٹی اور اپنے بھائی کے ہمراہ لودھراں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میری مین روڈ لودھراں پر رشید کریانہ سٹور کے نام سے شاپ ہے ۔ 29جولائی 2026کو پنجاب فوڈ اتھارٹی نے میرے گودام واقع نزد گول مسجد چھاپہ مار کر گودام میں پسی ہوئی مرچ جوکہ حیدری فوڈ پروڈکشن حیدرآباد کی پیک شدہ ہے جس کے نمونے فوڈ اتھارٹی کے آفیسر ڈاکٹر سفیان صدیق ،فوڈ سیفٹی آفیسر وسیم اسلم جوکہ اے ایف ایس او ہیں کے ہمراہ مرچ کے نمونے حاصل کر کے کہا کہ ہم نے لیبارٹری بھجوانے ہیںاورمجھ سے مبینہ 20ہزار روپے رشوت بھی لی ۔ ایک ماہ بعددوبارہ رشوت کا مطالبہ کیا تو میںنے انکارکر دیا تو ہمیں کہا کہ یہ مرچیں فروخت نہ کریں۔جس کے بعد 11اگست 2026کو ڈ ائریکٹر فوڈ اتھارٹی ملتان چوہدری رمیض دیگر افسران مبشر عباس ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ،ڈاکٹر سفیان،ایف ایس او، وسیم اسلم اسسٹنٹ ایف ایس اواور صابر جے سی او کے ہمراہ ہمارے گودام پر چھاپہ مارا اور کہا کہ ہم نے جعلی مرچ والی فیکٹری پکڑ لی ہے اورسوشل میڈیا کے ذریعے ہماری تشہیر شروع کر دی اور مرچیں ضبط کر لیں ۔ہم 40سال سے حیدری کمپنی کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں ۔ہمارے پاس خرید کردہ مرچوں کے بلز،کمپنی کا فوڈ لائسنس اور لیبارٹری کی رپورٹیں بھی موجود ہیں مگر فوڈ اتھارٹی نے کمپنی کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے میرے چھوٹے بھائی سمیع جوکہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے اس کا مستقبل خراب کرنے کیلئے اس کے خلاف استغاثہ پولیس کو دے دیا ہے ۔جبکہ اس کا کاروبار سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن لودھراں ریاست علی عباسی نے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران کے ناروا رویہ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کارروائی کے دوران دکانداروں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کمپنی کی تیار کردہ اشیا میں ملاوٹ یا غیر معیاری اجزا ثابت ہوتے ہیں تو کارروائی کمپنی کے خلاف ہونی چاہیے، محض مال فروخت کرنے والے دکاندار کو ذمہ دار قرار دینا نامناسب ہے۔ریاست علی عباسی نے کہا کہ اگر حیدری کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ مرچیں غیر معیاری یا جعلی ثابت ہوتی ہیں تو کمپنی کو بھی کارروائی میں شامل کیا جائے، تاہم کمپنی کے لائسنس، بلز اور لیبارٹری رپورٹس موجود ہونے کے باوجود صرف دکانداروں کے خلاف کارروائی قابل تشویش ہے۔انہوں نے وزیراعظم ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کا شفاف جائزہ لیا جائے، مبینہ طور پر دکانداروں کو ہراساں کرنے اور رشوت طلب کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی کمپنی کی مصنوعات میں خرابی ہے تو کارروائی اصل ذمہ دار کے خلاف کی جائے۔ دکانداروں کے خلاف کارروائی سے قبل کمپنی کے فراہم کردہ ریکارڈ، لائسنس، خریداری بلز اور لیبارٹری رپورٹس کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ تاجروں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متعلقہ کارروائی کے حوالے سے تمام ویڈیوز اور دیگر شواہد محکمہ کے پاس محفوظ ہیں۔ کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف ذاتی عناد یا ذاتیات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ تمام اقدامات قانون اور محکمانہ ضوابط کے مطابق کیے جاتے ہیں۔محکمہ پر رشوت کا الزام غلط اور بے بنیاد ہے۔







