لودھراں(بیورو رپورٹ)بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے سے شروع ہونے والا معاملہ مبینہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے قتل تک جا پہنچا ۔ملزمان ہمارے گھر پر فائرنگ کرتے جس کی اطلاع ریسکیو 15پر دینے کے بعد پولیس گولیوں کے خول اور موٹر سائیکل بھی اٹھا کر لائی ۔تھانے میں درخواست دینے اور رشوت دینے کے باوجود پولیس نہ مقدمہ درج کیا ،نہ ملزمان گرفتار کیے جس کی وجہ سے ملزمان نے فائرنگ کر کے 2معصوم بیٹیوں کے بے گناہ باپ کو قتل اس کے چھوٹے بھائی اور پارٹنر کو زخمی کر دیا ۔پولیس نے تاحال نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کیا ۔ تھانہ صدر لودھراں کے علاقہ موضع راجہ پورکی بستی گھپلی کے رہائشی مقتول جاوید شاہ کی والدہ ،اس کی بیوہ اور ماموں رشید شاہ نے دیگر خواتین اور بچوں کے ہمراہ لودھراں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رشید حسین شاہ نے بتایا کہ یکم اگست کو میرا 11سالہ بیٹا حسن رضا جو کریانہ کی دکان پر کوئی چیز لینے گیا تو وہاں پر موجود ملزمان قاسم شاہ وغیرہ نے میرے بیٹے کو پکڑ کر کہا کہ تم کہیں نہیں جا سکتے وہ رونے لگا توقاسم شاہ نے اسے اٹھا کر اسے اچھالا تو وہ زمین پر گرا جس کے نتیجے میں اس کے دانت اور ناک کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی لیکن ملزمان کے خوف کی وجہ سے مجھے بتایا گیا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے جس پر میں 15پر کال کی تو پولیس نے مجھے کہا کہ تم بچے کو لیکر ہسپتال آجاو ہم کاروائی کرتے ہیں میں بچے کو ہسپتال لیکر گیا تو مجھے میرے بھانجے جاوید شاہ نے کال کی کہ ماموں ملزمان نے گھر پر حملہ کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم نے گواہی کیوں دی ہے اور انہوں نے تشدد کرنے کے علاوہ گھر میں پتھر مارے جس سے شیشے وغیرہ ٹوٹ گئے ہیں اور فائرنگ بھی کر رہے ہیں۔15پر کال کرنے پر مقامی پولیس موقع پر آئی اور تمام صورتحال دیکھنے کے بعد گولیوں کے خول اٹھاکر لے گئی۔مقتول جاوید شاہ کی والد نے الزام لگایا کے چند روز بعد ملزمان نے دوبارہ ہمارے گھر پر فائرنگ کی جس کی اطلاع 15پر دی تو پولیس موقع پر آئی ملزمان کا موٹر سائیکل جو چھوڑ کر وہ بھاگ گئے ان کی موٹر سائیکل اور گولیوں کے خول اٹھا کر لے آئی مگر کوئی کاروائی نہ کی ۔اس کے اگلے ہی روز ملزمان نے شام 6بجے پھر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میرا نوجوان بیٹا جاوید شاہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ 13سالہ بیٹا مجاہد شاہ اور میرے بیٹ کا پارٹنر فہیم خان فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے ۔مقتول جاوید شاہ کی بیوہ نے کہا کہ ملزمان 8روز سے ہمیں فائرنگ کر کے خوف زدہ کر رہے تھے مگر پولیس جب بھی آتی گولیوں کے خول اٹھا کر لے آتی مگر کاروائی نہیں کرتی تھی ۔وقوعہ کے روز میرا شوہر جاوید شاہ لودھراں پولیس کے پاس آیا جو مقدمہ درج کرنے کیلئے مبینہ طور ڈیڑھ لاکھ روپے مانگ رہی تھی لیکن میرے شوہر نے پولیس کو 60ہزار روپے دے کر جب گھر پہنچا تو ملزمان قاسم شاہ،شان شاہ،پھینے شاہ نے میرے سامنے میرے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔میں اور میرا شوہر منت سماجت کرتے رہے مگر انہیں ترس نہ آیا ۔اور 8گولیا ں لگنے سے میرا شوہر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ۔میرے دیور کو بھی تین فائر لگے ۔اور میرے شوہر کا پارٹنر فہیم بھی فائرنگ کے نتیجہ میں زخمی ہوا ۔پیسے لینے کے باوجود بھی پولیس نے فوری ملزمان کو گرفتار نہ کیا ۔اگر پولیس ملزمان کے خلاف فوری ایکشن لیتی تو میرا شوہر قتل نہ ہوتا ۔ظالموں نے میرے جوان شوہر کو قتل کر کے مجھے بیوہ اور میری معصوم بیٹیوں کو یتیم کر دیا ہے پولیس نے مین ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا ۔ایک ملزم ندیم کو پکڑ کر ایئر کنڈیشن کمرے میں بٹھایا ہوا ہے ۔ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں نہیں ہے ہمیں ہر وقت ملزمان سے خطرہ ہے کہ ہمیں بھی قتل نہ کر دیں ۔متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب پولیس ،آر پی او ملتان ڈی پی او لودھراں سے اپیل کی ہے ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور غفلت کے مرتکب پولیس ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے۔پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے تشکیل دی گئی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں جلد ملزمان کو گرفتار کر کے مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا ۔







