ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ( نویں قسط )

سرکاری سطح پر پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کبھی گرم جوشی اور کبھی سرد مہری چلتی رہی ہے مگر انقلاب ایران کے بعد پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں موجودہ جنگ سے پہلے کبھی گرم جوشی کا موقع نہیں آیا۔ ایران میں امام خمینی کی حکومت وہ پہلی حکومت ہے جس نے مذہبی طبقہ کو سیاسی قوتوں پر برتری دی۔ اس سے قبل ایران کی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی بھی مذہبی طبقہ کو سیاسی طبقہ پر برتری حاصل نہیں ہوئی تھی حالانکہ صفوی حکومت میں ولایت فقیہ کا تصور موجود تھا اورجس کے اقتدار کے دوران ایران کی سنی اکثریت اہل تشیع کی اکثریت میں تبدیل ہوئی اور یہ زیادہ عرصہ کی بات نہیں یہ کوئی 500 سال پہلے سنی ایران شیعہ مکتبہ فکر کے ایران میں تبدیل تو ہو گیا مگر صفوی حکومت میں سیاسی اقتدار علماء کے پاس نہیں تھا اس لیے پہلے بادشاہت کے زمانے میں بھی ایسا نہیں تھا ہاں مگر ایرانی قوم پرستی صدیوں سے ایک مستقل عنصر کے طور پر موجود تھی جس میں اسلامی انقلاب کے بعد بھی کوئی خاص فرق نہیں آیا۔
ایک سکول آف تھاٹ کا ماننا یہ بھی ہے کہ امام آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایرانی انقلاب کو دیگر اسلامی ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی تحریک نفاز فقہ جعفریہ وجود میں آئی اور دیگر عرب ممالک جن میں اہل تشیع ایک نمایاں تعداد میں موجود تھے انہوں نے امام خمینی کی ہدایات پر عمل درام شروع کیا تو عرب مبارک میں موجود بادشاہتوں کا فکر مند ہونا لازمی امر تھا۔ پاکستان میں انجمن سپاہ صحابہ جیسی تنظیم وجود میں آئی اور کہا جاتا ہے کہ انہیں بلا مبالغہ عرب حکومتوں کی دامے درمے سخنے سپورٹ بھی حاصل تھی اور دوسری طرف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ایران کی انقلابی حکومت کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ دونوں تنظیموں نے اپنی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جبکہ مانا یہ جاتا ہے کہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد دیوبندی مکتبہ فکر اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھے والوں کی نسبت کم و بیش تین گنا زیادہ ہیں۔
دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریز دور حکومت میں انگریزوں سے لڑائی لڑتے آئے تھے اور افغان جہاد میں بھی زیادہ تر اسی مسلک کے لوگوں نے حصہ لیا ہے لہٰذاان میں انتہا پسندی کا رجحان نسبتاًبہت زیادہ پایا جاتا تھا جبکہ دوسری طرف بھارت اور پاکستان میں اہل تشیع کا کوئی ایسا پس منظر نہیں تھا۔ انجمن سپاہ صحابہ کے بطن سے کالعدم لشکر جھنگوی نے جنم لیا اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے سپاہ محمد وجود میں آئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں تنظیمیں عسکریت پسندی کی طرف بڑھتی گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر دی ۔سپاہ صحابہ کو پاکستان کو ریاست اور عرب ممالک کی خاص طور پر سعودی عرب کی حمایت حاصل رہی۔ سپاہ محمد زیادہ دیر تک ان کا مقابلہ تو نہ کر سکی اور آخر کار کالعدم لشکر جھنگوی ایم کیو ایم کی طرح ریاست کے گلے پڑ گئی اور اس کے روابط بھی انجمن سپاہ صحابہ کی طرح افغان انتہا پسند جہادی تنظیموں سے بہت مضبوط ہوتے گئے۔ ریاست پاکستان کو اپنے ہاتھوں سے دی گئی گانٹھوں کو اپنے دانتوں سے کھولنا پڑا مگر ریاست پاکستان کو مکمل کامیابی نہ ہو سکی۔
میں نے گزشتہ کسی ایک ایک قسط میں چین کی ترقی کے حوالے سے بتایا تھا کہ ڈنگ زیاو پنگ نے جدید سنگاپور کے بانی کے نصیحت پر عمل کرکے یہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی دوسرے ملک میں مداخلت نہیں کرنی اور دوسری طرف پاکستان کی معاشیات 1965 کی جنگ کے بعد سنبھل ہی نہ سکی کیونکہ ہم نے کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کروایا تھا اور رہی سہی کثر افغان جہاد اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں طالبان حکومت کے خلاف امریکی چڑھائی نے پوری کر دی۔ بعض دانشور یہ کہتے ہیں ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں مہنگائی نہیں ہوئی تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان مداخلوں کو عوض ملنے والے ڈالر پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرتے رہے اور جیسے ہی ڈالروں کی سپلائی بند ہوئی ہماری اصلی معاشی حالت واضح ہونا شروع ہو گئی۔ دوسری طرف ایرانی انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی پالیسی کی وجہ نو سالہ ایران عراق جنگ لڑی گئی اور دونوں ممالک کا شدید نقصان ہوا اور کئی لاکھ کلمہ گو مسلمان لقمہ اجل بنے جب کہ وسائل اور مادی تباہی علیحدہ سے ہوئی۔ پنجابی کہاوت ہے کہ گھر دا “جوگی جوگ ناں تے باہر دا جوگی سدہ” یعنی اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا اور چلے باہر والوں کے مسائل حل کرنے اور بد قسمتی سے یہی ہمارے پاکستان کی حالت ہے۔ پاکستان کے علاوہ ایران نے لبنان یمن اور عراق میں اپنی پراکسی بنائیں اور اسی طرح سعودی عرب اور یو اے ای نے لیبیا الجزائر اور سوڈان میں اپنی پراکسی بنائیں۔ مگر ان سب کا نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ بھی برآمد نہ ہوا ہم اگر دوسرے اسلامی ملکوں میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنا لیتے تو مسلمانوں کی اس قدر تباہی نہ ہوتی۔ ان پراکسی وار سے فائدہ کسی اور کا ہوا مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہمارے مسلم حکمرانوں نے گوارا ہی نہیں کی۔ یمن میں جب خانہ جنگی ہوئی تو اس کی بنیاد غالبا یمن کی سلامتی کونسل کی قراردار میں صدام حسین کی حمایت کرنا تھی۔ اس وقت سعودی عرب نے جذباتی فیصلہ کیا اور 20 لاکھ یمنیوں کو سعودی عرب سے نکال دیا جس سے یمن میں بے روزگاری اور غربت کا نہ رکنے والا طوفان آ گیا پھر یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای نے اپنی پراکسی بنائی اوربعد میں دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے۔
ہمارے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ یمن کے حوثیوں کو خفیہ طور پر 2014 میں اسرائیل نے ڈرون دیے اور ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی بھی دی اس وقت تک امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ ڈرون بنانے کی صلاحیت کسی بھی دوسرے ملک کے پاس نہیں تھی۔ اگر اب بھی مسلمان ممالک کا کوئی حکمران سمجھنے سے قاصر ہو تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں شیعہ سنی پراکسیوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر جو اثر ڈالا سو ڈالا چونکہ ریاستوں کے تعلقات قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں مگر پاکستان میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان رواداری کے کلچر کو شدید نقصان پہنچا ۔ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کے شروع میں جس طرح اہل تشیع نے گلگت اور کراچی میں ردعمل کا اظہار کیا وہ ہمارے ملکی سماجی اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے (جاری ہے)

شیئر کریں

:مزید خبریں