وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم اسلام آباد کو بند کرنے یا وہاں دھاوا بولنے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی صورتحال سب کے سامنے ہے، ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے جوان نہ صرف ہمارے بلکہ پورے پاکستان کے شہید ہیں۔
وزیر داخلہ نے سیاسی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی وزیر نے شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس قدر بے حسی نہیں ہونی چاہیے کہ نہ خود اور نہ ہی کوئی وزیر شہداء کے جنازے میں شرکت کرے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بھی بہت سے لوگ لانگ مارچ کے حق میں نہیں، جبکہ انہیں خود بھی واضح طور پر معلوم نہیں کہ ان کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا علاج قانون کے مطابق ہوگا، ان کی مرضی کے مطابق نہیں، جبکہ گزشتہ روز بھی ان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور جو بھی وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم موجود ہے اور اس پر مکمل طور پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ بند گلی میں جانے سے گریز کیا جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جہاں واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔ محسن نقوی کے مطابق حکومت دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرے گی اور اس بار ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا کہ کوئی اسلام آباد آئے اور ملک 10 یا 20 روز تک بند رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ مستقل لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا اور وفاقی حکومت اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ جو لوگ بھڑکیں مارتے ہیں، انہیں مارنے دیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نئے صوبوں کا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ وہ معیشت کے معاملے پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی ممالک میں پیٹرول کی دستیابی بھی مشکل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وفاقی وزیر کی یہ بات درست ہے کہ ایک ہزار روپے میں بھی پیٹرول دستیاب نہیں ہوگا، کیونکہ ایک ایک جہاز کے پیچھے ہر شخص اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ ملک میں نئے صوبے ضرور بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا معاملہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔







